نیٹو افسران کی ہلاکت، افغان اہلکار مطلوب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سنیچر کے روز کابل میں وزاراتِ داخلہ کی عمارت کے اندر دو نیٹو افسران کی ہلاکت کے الزام میں افغان انٹیلجنس پولیس کے ایک افسر کو مطلوب قرار دیا گیا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کے اس واقعے کے مرکزی مشتبہ ملزم بچیس سالہ عبدالصبور فائرنگ کے بعد سے فرار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پروان صوبے میں واقع اُن کے آبائی گھر پر رات کو چھاپہ مارا گیا اور ان کے رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

نیٹو نے اس حملے کے بعد افغانستان کی تمام وزارتوں سے اپنے عملے کو واپس بلا لیا ہے۔

ہلاک ہونے والے افسران کے ناموں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم لوگوں کا ماننا ہے کہ ان میں سے ایک امریکی فوج کا کرنل اور ایک میجرتھا۔

نیٹو کے ترجمان برگیڈیئر جنرل کارسٹن جیکبسن نے کہا کہ ’یہ بات تشویشناک ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں کہ واقعے میں ہوا کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ میں دونوں طرف افغان اور نیٹو جانب سے اصل حقائق کو جلد سے جلد جانے میں بہت دلچسپی ہے۔

اتوار کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ریاست امن و استحکام کے دشمنوں کو حالات کا فائدہ نہیں اٹھانے دے سکتی۔

انہوں نے دو امریکی افسران کی ہلاکت کی مذمت کی اور کہا کہ ابھی واضح نہیں کہ ذمہ دار کون ہے۔

حکام کا کہنا ہے عبد الصبور بہت سی افغان وزارتوں میں ملازمت کر چکے ہیں اور وہ وزارتِ داخلہ کے ساتھ کافی عرصے سے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سیکیورٹی انتظامات کے نگران تھے اور ان کے پاس خفیہ حکومتی ریڈیو چینلز تک رسائی حاصل تھی۔

نیٹو کے افغانستان میں کمانڈر جنرل جان ایلن کا کہنا تھا کہ ’یہ حملہ ایک بزدل شخص نے کیا ہے جس کے اعمال کا جواب دیا جائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ واضح سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر تمام بین القوامی سیکیورٹی اہلکاروں کو کابل اور اس کے قریب وزارتوں سے نکال لیا گیا ہے۔

دوسری جانب افغانستان بھی میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن جلائے جانے کی واقعے کے خلاف احتجاج جاری ہے۔

اسی بارے میں