’وزیراعظم پوتن کے قتل کا منصوبہ ناکام‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان فراد کو جنوری میں اوڈیسا کے ایک فلیٹ میں دھماکے بعد گرفتار کیا گیا تھا، اس دھماکے میں منصوبے میں شامل ایک مشتبہ شخص ہلاک ہو گیا تھا

روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرائن کی سکیورٹی سروس نے روس کے وزیراعظم ولادیمیر پوتن کے قتل کا ایک منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔

روس کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل ون کے مطابق یوکرائن کے ساحلی شہر اوڈیسا سے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان دونوں افراد کو ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا ہے اور اس میں انھوں نے قتل کے منصوبے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

یوکرائن کے سکیورٹی حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد کا تعلق روسی وزیراعظم کے قتل کے منصوبے سے ہے۔

تاہم روسی وزیراعظم ولایمیر پوتن کے پریس سیکرٹری دمتری پیسکوو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خبر کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ’ بلکل یہ منصوبہ وزیراعظم پوتن کو قتل کرنے کے بارے میں تھا۔‘

اطلاع کے مطابق روسی وزیراعظم پر حملہ آئندہ اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے بعد ہونا تھا۔

ان انتخابات میں وزیراعظم پوتن کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے توقع ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈینئل سینڈفورڈ کا کہنا ہے کہ ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے دونوں افراد میں سے ایک سے تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ دوسرا شخص انٹرویو دے رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاع کے مطابق روسی وزیراعظم پر حملہ آئندہ اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے بعد ہونا تھا

ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے مناظر میں دونوں افراد نے وزیراعظم پوتن پر حملے کے منصوبے کا اعتراف کیا ہے۔

ان میں سے ایک شخص کو الایا پیانزن کے نام سے شناخت کیا گیا ہے اور اس کے مطابق روسی وزیراعظم پوتن کی قتل کے لیے چیچنیا کے عسکریت پسند رہنما ڈوکو عمرروو نے ان کی خدمات کو حاصل کیا تھا اور اس کے علاوہ روسلان مدیایو جو اوڈیسا کے فیلٹ میں دھماکے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

ٹی وی چینل نے دوسرے مشبتہ شخص کا نام آدم اوسمایو بتایا ہے اور اس شخص کے مطابق وہ سال دو ہزار سات سے مطلوب افراد کی بین الاقوامی فہرست میں شامل ہے۔

اطلاع کے مطابق قتل کے منصوبے کے تحت روس کے دارالحکومت ماسکو کے کیوتوزووسکی ایونیو پر بارودی سرنگیں نصب کرنا تھیں جہاں سے روزانہ وزیراعظم گزرتے تھے۔

روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق الایا پیانزن کو یوکرائن کے ساحلی شہر اوڈیسا کے اس فلیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں پر دھماکہ ہوا تھا۔

الایا پیننزن کے مطابق وہ روسلان مدیایو کے ساتھ متحدہ عرب امارات سے ترکی کے راستے یوکرائن پہنچے تھے اور ان کے پاس چیچن عسکریت پسند رہنما ڈوکو عمرروو کے نمائندوں کی باقاعدہ ہدایات تھیں۔

اطلاع کے مطابق روسی وزیراعظم کے قتل کے منصوبے کی تفصیلات فلیٹ سے ملنے والے ایک لیپ ٹاپ کمپیوٹر میں تھیں، اس کے علاوہ روسی وزیراعظم کے قافلے کی ویڈیو فلم تھی۔

اسی بارے میں