یمن:صدر علی عبدللہ صالح نےاقتدار چھوڑ دیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تیتیس سال اقتدار میں رہنے والے یمنی صدر علی عبدللہ صالح نے ملک میں کئی ماہ سے جاری احتجاج کے بعد اقتدار چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے صدر کا عہدہ باقاعدہ طور پر یمن کے نائب صدر عبد ابو منصور ہادی کے حوالے کر دیا ہے جنہوں نے گزشتہ سنیچر کو صدر کا حلف اٹھایا تھا۔

واضح رہے کہ اقتدار کی یہ منتقلی ایک ایسے معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت سابق صدر علی عبدللہ صالح کو ان کے خلاف چلائے جانے والے مقدمات میں استثنیٰ حاصل ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے یمن میں نئے صدر کے اقتدار میں آنے کو ملک کے لیے ’ایک نیا آغاز‘ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ یمن کو جمہوریت کی طرف لے کر جانے میں امریکہ یمن کا ساتھ دے گا۔

صدر براک اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی ہمدردیاں اتوار کو جنوبی یمن میں گاڑی کے دھماکے میں ہلاک ہونے والے چھبیس افراد کے ساتھ ہیں۔

یہ دھماکہ عبد ابو منصور ہادی کے یمنی دارالحکومت صنعا میں حلف اٹھانے کے چند گھنٹے بعد ہوا تھا۔

صدر اوباما نے کہا ’صدر ہادی کی رہنمائی میں یمن کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ یہ ثابت کر دکھائے کہ اقتدار میں پرامن تبدیلی ممکن بن جاتی ہے جب قومیں تشدد کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہیں اور متحد ہو کر ایک مقصد کے لیے لڑتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا ’رواں ہفتے یمن میں لاکھوں افراد نے ووٹ کے ذریعے نئے صدر کو منتخب کیا اور اس سے ملک کی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’اگرچہ یمن کے شہریوں نے ملک کو ایک نیا آغاز فراہم کر دیا ہے لیکن ابھی آگے بہت کام کرنا ہوگا۔‘

انہوں نے کہا ’اس بارے میں، میں نے صدر ہادی تک اپنا پیغام پہنچا دیا ہے کہ امریکہ اس جدوجہد میں یمنی شہریوں کے ساتھ ہے۔‘

اسی بارے میں