بہتر سالہ نیپالی سب سے پستہ قد انسان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک بہتر سالہ نيپالی شخص کو دنیا کے سب سے چھوٹے قد کا انسان قرار دیا گیا ہے۔

گنيز بک آف ورلڈ ریکارڈ اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے چندر بہادر ڈانگي کے قد کی پیمائش کی جو اکیس اعشاریہ پانچ انچ پایا گیا۔

اتوار کو گنيز نے ڈانگي کو دو سرٹيفکیٹ دیے، پہلا دنیا کے سب سے چھوٹے مرد ہونے کا اور دوسرا گنيز کے ستاون سالہ تاریخ میں سب سے پستہ قد انسان ہونے کا۔

چندر بہادر ڈانگي نے صحافیوں سے کہا، ’میں بہت خوش ہوں۔ میں نیپال اور دنیا کے مختلف ممالک دیکھنا چاہتا ہوں۔‘

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے تقریبا چار سو کلومیٹر دور ایک گاؤں رمكھولي میں ڈانگي اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے پانچ بھائی ہیں جو عام انسانی قد کے ہیں۔

سنیچر کو کھٹمنڈو میں گنيز کی ٹیم سے ملنے سے پہلے ڈانگي کو کبھی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ کبھی شدید بیمار نہیں ہوئے۔

کلینک میں جن ڈاکٹروں نے ڈانگي کو دیکھا انہوں نے بھی ان کی صحت میں کوئی خرابی نہیں پائی۔ ان کے خاندان کو یاد نہیں ہے کہ ڈانگي کا قد بڑھنا کب رک گیا۔ اپنے چھوٹے قد کی وجہ سے چندر بہادر ڈانگي کبھی گھر سے باہر کام کرنے نہیں گئے۔ وہ بس کبھی کبھی گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹا دیتے ہیں۔

ڈانگي سے پہلے یہ خطاب فلپائن کے جونرے بلاوگ کے پاس تھا۔ جونرے کا قد تیئس اعشارہ پانچ انچ تھا۔

چندر بہادر ڈانگي جہاں رہتے ہیں وہ گاؤں شہر سے اتنا دور ہے کہ ان کے بارے میں معلومات حال ہی میں سامنے آئی ہیں۔ لکڑی کٹوانے کا کام کروانے والے ایک ٹھیکیدار نے ڈانگي کو دیکھا اور اس کے قد کے بارے میں مقامی نیوز چینلوں کو معلومات دی۔

ڈانگي سے پہلے بھی ایک نيپالی مرد كھگےدر تھاپا کو دنیا کے سب سے چھوٹے قد کے شخص ہونے کی ڈگری دی گئی تھی لیکن جونرے بلاوگ ان سے بھی چھوٹے نکلے۔

گنيز نے گزشتہ سال دسمبر میں بھارت کی ایک لڑکی جیوت امگے کو دنیا کی سب سے چھوٹی خاتون کا خطاب دیا تھا۔ محض چوبیس اعشارہ سات انچ کی جیوتی امگے اپنی تعلیم پوری کر کے بالی وڈ اداکارہ بننا چاہتی ہیں۔

اسی بارے میں