آرمینیائی نسل کشی، نیا قانون لانے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس قانون سازی کی وجہ سے ترکی اور فرانس کے تعلقات میں بھی تناؤ پیدا ہوا ہے

فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیائی باشندوں کی’نسل کشی‘ سے انکار کو جرم قرار دینے کے لیے فرانس کی حکومت کو نیا مسودۂ قانون تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے یہ حکم فرانس کی اعلٰی عدالت کی جانب سے سابقہ بل مسترد کیے جانے کے بعد دیا ہے۔ فرانس نے آئینی کونسل نے اس بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزادی اظہار کے خلاف ہے۔

فرانس کی پارلیمان کے دونوں ایوان جنگِ عظیم اوّل کے دوران ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ میں آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کے بارے میں پیش کیے گئے اس بل کی منظوری دے چکے تھے۔

ترکی کی حکومت نے فرانسیسی عدالت کے حکم کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس قانون سازی کی وجہ سے ترکی اور فرانس کے تعلقات میں بھی تناؤ آیا ہے۔

صدر سرکوزی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدرِ جمہوریہ کے نزدیک (نسل کشی سے) انکار قابلِ قبول نہیں اور اس کے لیے سزا دی جانی چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ آئینی کونسل کے فیصلے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نیا مسودۂ قانون تیار کرے۔

ترک وزیرِ خارجہ احمد داؤداوغلو کا کہنا ہے کہ فرانس کے ساتھ اقتصادی، سیاسی اور عسکری تعلقات کی بحالی کے لیے ترکی کی کابینہ کا اجلاس جلد ہوگا۔ ترکی نے تیئیس جنوری کو فرانسیسی پارلیمان کی جانب سے اس قانون کی منظوری کے بعد فرانس سے اپنے تعلقات منجمد کر دیے تھے۔

فرانس کی آئینی کونسل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’کسی ایسے جرم کی موجودگی پر سوال اٹھانے والے کو سزا دینے سے، جسے قانون ساز خود جرم مانتے ہوں یا تسلیم کرتے ہوں، قانون سازوں نے اظہارِ رائے کی آزادی پر ایک غیر آئینی حملہ کیا ہے‘۔

فرانس پہلے ہی آرمینیائی ہلاکتوں کو نسل کشی تسلیم کرتا ہے اور نئے قانون سے اس سے انکار کرنے کی صورت میں ملزم کو ایک سال قید اور پینتالیس ہزار یورو جرمانہ ہو سکتا ہے۔

آرمینیا کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو پندرہ - سولہ کے درمیان سلطنتِ عثمانیہ کی تقسیم کے دوران پندرہ لاکھ افراد مارے گئے تھے۔ ترکی کو اس معاملے کو ’نسل کشی‘ قرار دیے جانے پر اعتراض ہے اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں کم تھی۔

ترک حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس زمانے میں مشرقی ترکی میں جو کچھ ہوا اس کا فیصلہ تاریخ دانوں پر چھوڑ دینا چاہیے اور یہ کہ اس نئے فرانسیسی قانون نے اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کر دیا ہے۔

اسی بارے میں