شام میں ہلاکتوں کی تعداد 7500: اقوامِ متحدہ

شام تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں

اقوامِ متحدہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا ہے کہ گزشتہ مارچ سے جاری شام کی سکیورٹی فورسز کے منحرف افراد کے خلاف آپریشن میں اب تک تقریباً ساڑھے سات ہزار سے زائد ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیاسی امور کے انڈر (نائب) سیکریٹری جنرل لِن پاسکو نے نے کہا کہ ایسی ’مستند خبریں‘ بھی ہیں کہ اکثر ایک دن میں شہری ہلاکتیں سو سے بھی تجاوز کر جاتی ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق حکومتی فورسز نے حمص اور اس کے گردو نواح کے کئی رہائشی علاقوں میں گولہ باری کی ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء حمص میں فوج کی بمباری کے دوران زخمی ہونے والے برطانوی فوٹو گرافر پال کونرے فرار ہو کر لبنان پہنچ گئے ہیں۔

اخبار سنڈے ٹائمز سے منسلک پال کونرے تو لبنان میں محفوظ ہیں لیکن فرانسیسی صحافی ایڈتھ بوویئر اور ان کے دو ساتھیوں کے متعلق ابھی کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

انسانی حقوق کے ایک گروہ ’آواز‘ کے مطابق چاروں صحافیوں نے حمص سے اکٹھے سفر شروع کیا تھا لیکن ان کے قافلے پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں وہ الگ الگ ہو گئے۔ آواز کا کہنا ہے کہ اس نے صحافیوں کو حمص سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔

شام میں ہلاکتوں کے متعلق نئے اعداد و شمار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں سامنے آئے۔

لِن پاسکو نے کہا کہ ’ایسی قابلِ اعتبار اطلاعات ہیں کہ اکثر ایک روز میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔‘

شام کی حکومت کے بقول ’مسلح گروہوں اور دہشت گردوں‘ سے جھڑپوں میں اب تک کم از کم ایک ہزار تین سو پینتالیس سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں