امدادی قافلے کا بابا امر میں داخلہ منع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شام میں ہلالِ احمر کے کارکنوں کو بابا امر کے علاقے میں امدادی کارروائی کے لیے داخل نہیں ہونے دیا گیا ہے تاہم انہیں اس سے پہلے بابا امر میں جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کےصدر جیکب کیلنبرجر کا کہنا تھا کہ امدادی کارکنوں کا روکا جانا ناقابلِ منظور ہے۔

تاخیر کے باعث حزبِ مخالف نے الزام لگایا ہے کہ حکومت بابا امر سے ماورائے عدالت قتل کے شواہد مٹا رہی ہے۔

اس سے پہلے شامی ریڈ کریسنٹ کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امدادی قافلے کو بابا امر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی تاہم اس اجازت کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی تھی۔ بابا امر اس وقت شامی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

ریڈ کراس اور شامی ہلالِ احمر نے سات مال بردار گاڑیوں کا انتظام کیا تھا۔

امدادی کارکن کا سب سے پہلے ان علاقوں میں گزشتہ ماہ سے پھنسے ہوئے شہریوں کی ضروریات کا اندازہ لگانے کا منصوبہ تھا۔ اس کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ وہ بیمار اور شدید زخمی لوگوں کو بہتر مقامات پر منتقل کر سکیں گے۔ حمص میں موجود لوگوں نے امدادی کارکنوں سے جلد حمص پہنچنے کی اپیل کی ہے کیونکہ ان کے مطابق شامی حکومت مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں ملوث تھی۔

اس سے پہلے جمعرات کو حکومت مخالف ’فری سِیریا آرمی‘ کا کہنا تھا کہ وہ ایک حکمتِ عملی کے تحت بابا امر کا ضلع خالی کر رہی ہے۔

باباامر کی آبادی تقریباً ایک لاکھ تھی جس میں سے چند ہزار لوگ ہی باقی رہ گئے ہیں۔ فری سیریا آرمی کا کہنا تھا کہ انہوں نے علاقہ باقی لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے خالی کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے بھی کہا کہ ان کے دفتر کو ماورائے عدالت قتل کی اطلاعات ملی ہیں۔

شام کے ہلالِ احمر کےانتظامی سربراہ نے ایک فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ امدادی قافلہ خوراک، ادویات، کمبل، بچوں کا دودھ اور دیگر اشیاء اپنے ساتھ لے گیا ہے۔

تاہم حمص میں شدید برفباری جاری ہے جس سےدمشق سے روانہ ہونے والے اس امدادی قافلے کو مشکلات پیش آئیں۔

حمص میں ریڈ کریسنٹ کے رضاکار اور ایمبولینس گاڑیاں اس قافلے سے جا ملیں گی اور پھر وہ بابا امر میں داخل ہوں گے۔

بابا امر میں بیشتر لوگ بجلی کے بغیر ہیں اور وہاں بنیادی اشیاء کی کمی ہے۔ آئی سی آر سی کے ترجمان شون مگوائر نے بی بی سی کو بتایا ’اگر لڑائی حقیقی طور پر ختم ہو گئی ہے تو ہمارے وہاں جانے میں یا وہاں رک کر روزمرہ کے کام کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔‘

انہوں نے کہا ’ہمارے شامی ہلالِ احمر کے ساتھی حمص کے باقی علاقوں میں یومیہ بنیادوں پر خوراک تقسیم کرتے رہے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہم بابا امر میں بھی یہی کر پائیں گے۔‘

دوسری جانب فرانسیسی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حمص میں پھنسے دو فرانسیسی صحافیوں کو شام سے نکال لیا گیا ہے۔

صدر نکولس سرکوزی نے بتایا کہ اکتیس سالہ رپورٹر ایڈتھ بوویئر اور چونتیس سالہ فوٹو جرنلسٹ ولیم ڈینئیل اس وقت لبنان میں ہیں اور ان کی فرانس واپسی جمعہ کے روز متوقع ہے۔

گزشتہ ہفتے ایڈتھ بوویئر ایک عارضی میڈیا سینٹر پر بمباری میں شدید زخمی ہوگئی تھیں۔ اس حملے میں دو صحافی ہلاک بھی ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بابا امر میں بیشتر لوگ بجلی کے بغیر ہیں اور وہاں بنیادی اشیاء کی کمی ہے

فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے کہا کہ وہ شام میں ظلم اور جبر کے باعث دمشق میں اپنا سفارتخانہ بند کر رہے ہیں۔

شامی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں صحافیوں، برطانوی سنڈے ٹائمز کی میری کول وِن اور فرانسیسی فوٹو صحافی ریمی اوشلک، کی لاشیں مل گئی ہیں اور متعلقہ سفارت خانوں کو دینے کے لیے دمشق لے جائی جائیں گی۔

ایک اور صحافی ہاویئر ایسپنوزہ اطلاعات کے مطابق لبنان میں محفوظ ہیں جبکہ برطانوی فوٹوگرافر پائل کونروئے پہلے ہی لبنان جا چکے ہیں۔

ادھر برسلز میں یورپی رہنماؤں کے ایک اجلاس میں کہا گیا کہ یورپی قیادت شام میں جاری تشدد اور مظالم سے خوفزدہ ہیں اور مطالبہ کیا کہ اس کے ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ شام کی حکومت پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ قائم کرنے کے لیے ثبوت اکٹھا کرنا انتہائی ضروری ہیں۔

انہوں نے روس اور چین سے اپیل کی کہ وہ شام میں موجود متاثرہ لوگوں کی مشکلات کو بغور دیکھیں اور ان کی مدد کے لیے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریں۔ انہوں نے شام کی حکومت کو مجرمانہ حکومت قرار دیا۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے متنفقہ طور پر شام تک فوری رسائی حاصل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حمص شہر میں بگڑتی ہوئی صورت حال اور بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکت شرمناک ہے۔

چین اور روس نے اقوا م متحدہ کے مطالبہ کی حمایت کر دی تھی۔

اسی بارے میں