پالتو جانوروں پر 50 ارب ڈالر سالانہ اخراجات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری اپنے پالتو جانوروں پر پہلے سے زیادہ اخراجات کر رہے ہیں۔

’امریکن پیٹ پراڈکٹس اسوسی ایشن‘ (اے پی پی اے) کا کہنا ہے کہ پالتو جانوروں پر سنہ دو ہزار گیارہ میں پچاس ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔

اس میں سے خوراک اور طبی اخراجات پر پینسٹھ فیصد خرچ کیا گیا جبکہ ’پیٹ سروسز‘ یعنی پالتو جانوروں کی دیگر خدمات کی مد میں اخراجات سب سے تیزی سے بڑھتے ہوئے تین ارب اناسی کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔

پیٹ سروسز میں پالتو جانوروں کی سجاوٹ، ان کو رہنے کی جگہ فراہم کرنا، پالتو جانوروں کے ہوٹل اور مالک کی غیر موجودگی میں پالتو جانوروں کی دیکھ بھال شامل ہیں۔

اے پی پی اے کے صدر باب وتر کا کہنا ہے کہ پیٹ سروسز پر خرچ میں سنہ دو ہزار بارہ میں بھی اضافہ متوقع ہے اور اس سال کے آخر تک یہ چار ارب گیارہ کروڑ ڈالر تک پہنچ جانا چاہیے۔

ان کہا کہنا تھا ’ہم اس زمرے میں ایک تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان دیکھ رہے ہیں کیونکہ نوکری پیشہ لوگوں کو ان خدمات کی ضرورت بڑھ رہی ہے جیسا کہ مالکوں کی غیر موجودگی میں ان جانوروں کی دیکھ بھال یا جانوروں کو پیدل سیر کروانا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایک اور زمرہ جس میں اضافہ متوقع ہے وہ ہے پالتو جانوروں کا بیمہ جہاں گزشتہ سال پینتالیس کروڑ تک اخراجات کیے گئے۔

امریکی دکانوں میں پالتو جانوروں کے لیے ملبوسات کی بھی ایک وسیع اقسام میسر ہیں۔

جانوروں کی ڈاکٹر جسیکا وگلسانگ نے اسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ’لوگوں کو پالتو جانوروں میں پہلے سے زیادہ دلچسپی ہے مگر اس معاملے میں صبر سے کام لے رہے ہیں۔ اگر وہ یہ ذمہ داری لیتے ہیں تو پھر اس کو بہترین طریقے سے نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پالتو جانوروں کی دیکھ بھال کی صنعت جانوروں کے مالکان کی ضرویات پوری کرنے میں بہتر ہوتی جا رہی ہے۔

اس بہتری کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اب بہت سے ایسے کھلونے بازاروں میں دیکھ رہے ہیں جو کہ نہ صرف پالتو جانوروں کی جسمانی صحت کا خیال رکھتے ہیں بلکہ ان کی ذہنی نشو نماء بھی کرتے ہیں۔

اسی بارے میں