چین کا دفاعی بجٹ سو ارب ڈالر سے زیادہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چین فوج بیس لاکھ اہلکاروں پر مشتمل ہے۔

چین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سنہ دو ہزار بارہ میں اس کا دفاعی بجٹ گیارہ اعشاریہ دو فیصد بڑھایا جائے گا۔

اس اضافے سے چین کا مجموعی دفاعی بجٹ سو ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ چین کی موجودہ فوج بیس لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے بیس سال سے چین کا دفاعی بجٹ ہر سال بڑھتا چلا آ رہا ہے اور فی الوقت امریکہ کے بعد چین کے دفاعی اخراجات دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

تاہم چین ابھی ایک طیارہ بردار بحری جہاز، ’سٹیلتھ‘ صلاحیت والے جنگجو فضائی طیارے اور ایسے میزائل بنانے پر کام کر رہا ہے جن سے سیٹلائٹس کو نشانہ بنایا جا سکے گا۔

گزشتہ سال امریکہ نے اس خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو مزید بڑھانے کا اعلان کیا تھا جسے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور علاقائی اثر و رسوخ کو روکنے کا منصوبہ سمجھا جا رہا تھا۔ امریکہ کے اس خطے میں ہزاروں فوجی پہلے ہی تعینات ہیں اور اس کا مجموعی دفاعی بجٹ سات سو چالیس ارب امریکی ڈالر کے قریب ہے۔

چینی دارلحکومت بیجنگ میں بی بی سی کے مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ چینی اہلکار اس خطے میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور اثر و رسوخ سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ واشنگٹن چین کو گھیرے میں لینا چاہتا ہے۔

دوسری جانب چین کے اردگرد دیگر ممالک اس کی بڑھتی ہوئی فوجی قوت سے گھبرائے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ چین کے ایک عرصے سے ہمسایہ ممالک ویتنام، فلپائن اور جاپان کے ساتھ علاقائی تنازعات ہیں اور تائیوان کو تو وہ اپنا علاقہ مانتا ہے۔

چینی پارلیمان کے اہلکار لی زاؤ ژنگ نے سنہ دو ہزار بارہ کے دفاعی بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’چین ترقی یافتہ ہونے کے لیے ایک پر امن راہ پر چل رہا ہے اور اس کی عسکری پالیسی دفاعی طرز کی ہے۔‘

انہوں نے کہا ’ایک اعشاریہ تین ارب آبادی، وسیع علاقے اور طویل ساحل کے باوجود ہمارے دفاعی اخراجات باقی بڑے ممالک سے کم ہیں۔‘

جی ڈی پی کے تناسب سے چین کا دفاعی بجٹ امریکہ اور برطانیہ، دونوں سے کم ہے لیکن بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کے دفاعی اخراجات، سرکاری بجٹ سے دگنے ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں