روس: پیوتن نے جیت کا اعلان کردیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پوتن سنہ دو ہزار سے لے کر سنہ دو ہزار آٹھ تک روس کے صدر رہ چکے ہیں

چار برس تک روس کے وزیراعظم رہنے کے بعد ولادیمیر پیوتن نے صدارتی انتحابات میں اپنی جیت کا اعلان کیا ہے۔

پیوتن نے وسطی ماسکو میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صاف اور شفاف انتخابات میں جیت گئے ہیں۔

تاہم اپوزیشن نے انتخابات میں وسیع پیمانے پر بےضابطگیوں کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ کئی افراد نے ایک بار سے زیادہ بار ووٹ ڈالا ہے۔

کریملن کے باہر پیوتن کے حمایتی بڑی تعداد میں روسی جھنڈے اور بینرز اٹھائے جیت کا جشن منانے کے لیے جمع ہوگئے۔

ایک مختصر سی تقریر میں پیوتن نے اور موجودہ صدر دیمیتری نے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا ’میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم جیتیں گے اور ہم جیت گئے۔‘

ایگزٹ پول کے مطابق انہوں نے اتوار کو ہونے والی صدارتی انتخاب میں چونسٹھ فیصد ووٹ حاصل کیے جس کے بعد انہیں اپنے قریب ترین حریف سے دوبارہ مقابلے کا سامنا نہیں ہوگا۔

انتخابی حکام کے مطابق اس الیکشن میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے اور اس مرتبہ ووٹنگ کی شرح سنہ 2008 کے صدارتی انتخاب سے زیادہ رہی۔

صدارتی انتخاب کے ناقدین نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کی شکایات کی ہیں اور کہا ہے کہ بہت سے لوگوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالا ہے۔ روسی انتخاب پر نظر رکھنے والے رضاکار گروپ لیگ آف ووٹرز کا کہنا ہے کہ اسے دھاندلی کے تین ہزار واقعات کی اطلاعات دی گئی ہیں۔

روسی حزبِ اختلاف نے صدارتی الیکشن کے خلاف پیر کو ماسکو میں عوامی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

روسی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی نتائج کے مطابق جبکہ چودہ فیصد ڈسٹرکٹس میں گنتی ہو چکی تھی، ولادیمیر پیوتن کو تقریباً باسٹھ فیصد اور ان کے قریب ترین حریف کمیونسٹ پارٹی کے غنادی زیگنوو کو اٹھارہ فیصد سے کم ووٹ ڈالے گئے تھے۔

اگر پیوتن مجموعی طور پر پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ نہ لے پاتے تو ان کا دوسرے نمبر کے امیدوار سے دوبارہ مقابلہ کروایا جانا تھا۔

پیوتن سنہ دو ہزار سے لے کر سنہ دو ہزار آٹھ تک روس کے صدر رہ چکے ہیں اور آئین کے تحت وہ مسلسل تیسری بار صدر نہیں بن سکتے تھے اس لیے انہوں نے وزارتِ عظمٰی سنبھال لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ووٹنگ کی شرح سنہ 2008 کے صدارتی انتخاب سے زیادہ رہی

اس صدارتی انتخاب میں انہیں چار حریفوں کا سامنا تھا جن میں سے تین کو وہ گزشتہ انتخابات میں شکست دے چکے ہیں۔ ان کے اہم ترین حریف کمیونسٹ پارٹی کے غنادی زیگنوو تھے جو کہ چوتھی بار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔

باقی امیدواروں میں قوم پرست ولادیمیر زرنووسکی، آزاد امیدوار اور کاروباری شخصیت میکائل پروخوروو اور ایوانِ بالا کے سپیکر اور ’اے جسٹ رشیا‘ پارٹی کے سرگئی میرونوو شامل تھے۔

روس میں صدارتی انتخابات کا انعقاد ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جبکہ وہاں دسمبر کے پارلیمانی انتخابات کی شفافیت کے بارے میں عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ اس عدم اطمینان کی وجہ پارلیمانی انتخابات میں ولادیمیر پیوتن کی پارٹی یونائیٹڈ رشیا پر دھاندلی کے الزامات ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روس میں اس بات پر شدید بحث ہو رہی ہے کہ کیا وزیراعظم پیوتن روس کی سربراہی کے لیے درست شخص ہیں یا تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔

روس میں تازہ ترین مظاہروں کی ذمہ دار آزاد خیال اپوزیشن کی ان انتخابات میں نمائندگی نہیں تھی۔ ’وائٹ ربن‘ نامی تحریک کو تقریباً پچاس ہزار لوگوں کی حمایت حاصل ہے جنہوں نے ماسکو اور دوسرے بڑے شہروں میں گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی بنیاد پر احتجاج کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حزبِ اختلاف نے صدارتی الیکشن کے خلاف پیر کو ماسکو میں عوامی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر وزیرِاعظم پیوتن کی حمایت میں اور کمیونسٹ پارٹی کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیوں میں بھی تقریباً اتنے ہی لوگوں سے شرکت کی ہے۔

مظاہروں کے ردِ عمل میں وزیرِاعظم پیوتن نے ملک کے تمام نوے ہزار پولنگ مراکز میں کیمرے لگانے کا اعلان کیا مگر ناقدین نے ان کی افادیت پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے ’آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن‘ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیمرے ووٹنگ کے عمل کی اور خاص طور پر گتنی کے وقت مکمل طور پر عکس بندی نہیں کر سکتے۔

ہزاروں روسی شہریوں نے رضاکارانہ طور پر انتخابی مبصرین کی ذمہ داری نبھائی اور انہیں دھاندلی کی پہچان اور رپورٹ کرنے کے طریقوں کی تربیت دی گئی تھی۔روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے وزارتِ داخلہ نے انتخابات کے موقع پر دارالحکومت ماسکو میں چھ ہزار اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔

اسی بارے میں