جوہری پروگرام کے عسکری رخ پر خدشات برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران نے نومبر سے افزودہ کی جانے والی یورینیم کی مقدار بھی بڑھا دی ہے:یوکیا امانو

جوہری معاملات کے لیے اقوامِ متحدہ کے نگران ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے ممکنہ عسکری پہلوؤں کے بارے میں ان کے خدشات برقرار ہیں۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے یہ بات پیر کو ویانا میں ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کے موقع پر کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والی حالیہ بات چیت میں ایران اپنی جوہری سرگرمیوں پر اٹھنے والے سوالات کے جواب دینے میں ناکام رہا ہے۔

یوکیا امانو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران نے نومبر سے افزودہ کی جانے والی یورینیم کی مقدار بھی بڑھا دی ہے۔

آئی اے ای اے کے نمائندوں نے ایران کے متنازع جوہری پروگرام کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ دو ماہ کے دوران دو مرتبہ ایران کا دورہ کیا تھا۔

ادارے کے مغربی ارکان کو امید ہے کہ وہ ایران کے خلاف ایسی قرارداد لانے میں کامیاب ہوجائیں گے جو ایران کو اپنے متنازع جوہری پروگرام کے بارے میں تحقیقات کرنے سے روکنے اور جوہری بم بنانے کی کوشش کرنے پر مذمت کرے گی۔

امریکی صدر براک اوباما پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے لیے اُس کے خلاف طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکمتِ عملی سے اس معاملے کو سلجھانے کی راہ کو ترجیح دی جائے گی۔

دوسری جانب ایران اصرار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ آئی اے ای اے کا کہنا تھا کہ جنوبی تہران کے علاقے پارچن میں تمام کوششوں کے باوجود ایران کے اہم فوجی اڈے کے معائنے پر ایرانی حکام کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا تھا۔

یہ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پارچن وہ فوجی اڈہ ہے جہاں حالیہ برسوں میں جوہری ہتھیاروں سے متعلق دھماکہ خیز مواد کا تجربہ کیا جاتا رہا ہے۔

اس سے قبل ایرانی حکام اور آئی اے ای اے کے درمیان جنوری میں بھی بات چیت کا پہلا دور ہوا تھا جو ناکام رہا تھا۔

اسی بارے میں