عالمی طاقتیں ایران سے مذاکرات پر آمادہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران کے مذاکرات سعید جلیلی نے گزشتہ ماہ یورپی یونین کو ایک خط بھیجا تھا جس میں انہوں نے مذاکرات کی پشکش کی تھی

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر چھ بڑی عالمی طاقتوں اور ایران نے نئے سرے سے مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

یورپی یونین کی امور خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ انہوں نے سلامتی کونسل کے پانچ اراکین اور جرمنی کی جانب سے ایران کو خط کا جواب دے دیا ہے۔

ایران کے مذاکرات سعید جلیلی نے گزشتہ ماہ یورپی یونین کو ایک خط بھیجا تھا جس میں انہوں نے مذاکرات کی پشکش کی تھی۔

تاہم ابھی تازہ مذاکرات کی تاریخ یا جگہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی قیاس آرائیاں ہور ہی ہیں۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کے جوہری پروگرام میں فوجی عنصر کا کوئی دخل نہیں لیکن مغربی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔

کیتھرین ایشٹن نے بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین کو امید ہے کہ ایران اب تعمیری مذاکرات کے عمل کا حصہ بنے گا اور مذاکرات کے اس عمل کے دوران اس کے جوہری پروگرام پر عالمی برادری کے خدشات کو دور کرنے میں حقیقی پیش رفت ہوگی۔

اس سے قبل ایران کا کہنا تھا کہ وہ مشروط طور پر اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے نمائندوں کو پارچن میں اپنے فوجی اڈے تک رسائی دے سکتا ہے۔

ایران اور یورپی یونین کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر گزشتہ کئی برسوں کے دوران مذاکرات کئی بار ہوئے اور کئی بار معطل ہوئے۔ آخری بار ان دونوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات گزشتہ جنوری میں ناکام ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ پیر کو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے اپنے امریکی دورے کے دوران کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے وقت نکلا جارہا ہے۔

اسی بارے میں