شام:’سکیورٹی اہلکاروں پر مظالم کے الزامات ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے کیے جانے والے مظالم کی اطلاعات کے دروان ہزاروں افراد نقل مکانی کر کے لبنان پہنچ رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو روز میں کم سے کم دو ہزار افراد نے شام سے لبنان نقل مکانی کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین نے پیر کو بتایا کہ شام سے نقل مکانی کر کے لبنان پہنچنے والے متعدد افراد کے پاس بہت کم سامان تھا۔

لبنان کے شمالی قصبے ارسل کے شہریوں کے مطابق کم سے کم ایک سو پچاس خاندان اتوار کو وہاں پہنچے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کی سربراہ کا کہنا ہے کہ انہیں شام جانے کی اجازت مل گئی ہے۔

ویلری آموس کے مطابق وہ بدھ کو شام کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

دریں اثناء اقوامِ متحدہ کےسابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان بھی رواں ہفتے کے اختتام پر شام پہنچ رہے ہیں۔

کوفی عنان اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ سفیر کی حیثیت سے بدھ کو قاہرہ میں شام میں تشدد کو ختم کرنے کے حوالے سے حکام سے ملاقات کریں گے۔

شام کے شہر حمص میں نقل مکانی کرنے والے شہریوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی اہلکار وہاں مظالم ڈھا رہے ہیں۔

تین روز تک پیدل چل کر فرار ہونے والی ایک خاتون نے بی بی سی کے پال وڈ کو بتایا کہ جمعے کو یعنی مزاحمت کاروں کے انخلاء کے ایک روز بعد ہی شامی فوج نے اس کے بارہ سالہ بیٹے کا گلا کاٹ ڈالا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے علاقے سے پینتیس مردوں اور لڑکوں کو حراست میں لے کر ہلاک کیا گیا۔

ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے مگر حمص سے بھاگتے ہوئے افراد نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ سکیورٹی اہلکار مظالم کر رہے ہیں جن میں ماورائے عدالت قتل بھی شامل ہیں۔

ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ حکومتی اہلکاروں نے چوکیوں پر ہمارے شوہروں کو حراست میں لے لیا اور انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح گلا کاٹ کر ہلاک کر دیا۔

گزشتہ ہفتے فوج سے منحرف ہونے کچھ فوجیوں نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا کہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے افسران نے ہمیں احکام دیے تھے کہ جو کچھ بھی ہلتا ہو اسے گولی مار دی جائے چاہے فوجی یا سویلین۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوامِ متحدہ کےسابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان بھی رواں ہفتے کے اختتام پر شام پہنچ رہے ہیں

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بابا عمرو کے لوگوں نے حکومت کے خلاف آواز اٹھائی مگر اب وہ بکھر چکے ہیں اور ان کی مزاحمت کچل دی گئی ہے۔

دوسری جانب شامی حکومت نے بین الاقوامی امدادی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس(آئی سی آر سی) کو مسلسل چار روز گزرنے کے باجود بابا عمرو میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر داخلے کی اجازت نہیں دی۔

شام میں امدادی کارکنوں نے متنبہ کیا ہے کہ وہاں انسانی تباہی کا مزید خطرہ ہے۔

علاقے میں بجلی، پانی اور مواصلات کا نظام منقطع کر دیا گیا ہے جبکہ گزشتہ چند روز سے درجہ حرارت میں شدید کمی اور برفباری ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق علاقے میں خوراک کے ذخائر انتہائی قلیل ہیں۔

جمعرات کو حکومتی فوجی ٹینکوں کے ہمراہ بابا عمرو میں داخل ہوئے تھے اور اس سے پہلے مزاحمت کاروں نے بابا عمرو سے انخلاء کا اعلان کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہلال احمر کو حمص کے تشدد زدہ ضلع بابا امر میں داخلے کی اجازت نہیں مل سکی ہے

آئی سی آر سی اور شامی ہلالِ احمر کو بابا عمرو میں بارودی سرنگوں اور پوشیدہ دھماکہ خیز مواد کے خطرے کے باعث داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی تاہم ریاستی ٹی وی کے مطابق علاقے کو ’مسلح دہشت گرد گروہوں‘ سے پاک کر دیا گیا ہے۔

حکومت مخالف گروہوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور حکومت حامی مسلح گروہ باباعمرو میں موجود مردوں اور چودہ سال سے بڑی عمر کے لڑکوں کو جمع کر کے ان پر تشدد کر رہے ہیں اور ان کو قتل کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی ایک آزاد تفتیشی ٹیم نے فروری میں کہا تھا کہ شامی فوج نے بڑے پیمانے پر اور منظم طریقے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں ہیں جو انسانیت کے خلاف جرائم بنتی ہیں۔

تفتیشی ٹیم نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت مخالف گروہوں سے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سرزد ہوئی ہیں مگر وہ حکومتی مظالم کے مقابلے کی نہیں ہیں۔

اسی بارے میں