افغانستان میں چھ برطانوی فوجی ہلاک

گاڑی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوجی منگل کو پٹرولنگ پر تھے جب ان کی گاڑی ایک دھماکے کا نشانہ بنی۔

برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ جنوبی افغانستان میں دھماکے کے نتیجے میں چھ برطانوی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ فوجی منگل کو پٹرولنگ پر تھے جب ان کی گاڑی ایک دھماکے کا نشانہ بنی۔

پہلے بی بی سی کے جوناتھن بیل کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے خیال میں جس گاڑی میں وہ سفر کر رہے تھے وہ کسی پرانی ٹینک شکن بارودی سرنگ یا کسی آئی ای ڈی سے ٹکرا گئی تھی’۔ تاہم اب بتایا گیا ہے کہ گاڑی سورشیوں کی جانب سے سڑک کنارے لگائے گئے بم سے ٹکرا گئی تھی یا پھر یہ کوئی ایسی بارودی سرنگ تھی جو روسیوں کے زمانے سے لگی رہ گئی تھی۔

ان فوجیوں میں سے پانچ کا تعلق یارک شائر کی تھرڈ بٹالین جب کہ ایک کا تعلق ڈیوک آف لانکیسٹر کی رجمنٹ سے بتایا جاتا ہے۔

اس واقعے کے بارے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے خاندانوں کو بتا دیا گیا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع نے فلپ ہموند نے کہا ہے کہ اس بزدلانہ واقعے کے نتیجے میں افغانستان سے برطانوی فوجیوں کی واپسی کے منصوبے اور نظام الاوقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی اس سے ہمارا عزام متزلزل ہو گا‘۔

چیف آف جنرل سٹاف سر جنرل ڈیوڈ رچرڈز نے ان ہلاکتوں پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’گہرا صدمہ‘ پہنچا ہے۔

سنہ دو ہزار چھ میں ہونے والے نمرود کے فضائی حادثے میں چودہ برطانوی اہلکار ہلاک ہوئے تھے اور اگر ان برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ افغانستان میں ہونے والے واقعات میں دوسرا بڑا واقعہ ہو گا جس میں برطانوی فوجیوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اس واقعے سے پہلے افغانستان میں 2001 کے بعد سے اب تک ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد تین سو اٹھانوے ہے جو اس تصدیق کے بعد چار سو چار تک پہنچ جائے گی۔

بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گورین نے اپنے مراسلے میں لکھتی ہیں کہ برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ واقع گذشتہ روز پیش آیا تھا، فوجی جنگجوئی کے لیے استعمال ہونے والی اس بکتر بند گاڑی میں گشت پر تھے جو دھماکے کا نشانہ بنی تاہم وزارت اب تک یہ نہیں جان سکی کہ دھماکے کی نوعیت کیا تھی’۔

وزارت کا کہنا ہے کہ یہ غالباً آئی ای ڈی ساخت کا ایک ایسا دھماکہ خیز بم تھا جو افعانستان میں شہریوں اور اتحادی افواج کے لیے انتہائی مہلک اور ہلاکت خیز ثابت ہوئے ہیں۔

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد کا چار سو سے بڑھنا انتہائی افسوسناک اور دکھ بھری خبر ہے۔ لیکن مجموعی صورتِ حال یہ ہے کہ مطلوبہ مقاصد کو حاصل کیا جا رہا ہے اور جو برطانوی فوجی افغانستان میں اپنی جانوں کی قربانی دے رہے وہ ان شہریوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنا رہے ہیں جو برطانیہ میں رہ رہے ہیں۔

وزارت کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ ان قربانیوں کا مقصد یہ ہے کہ 2014 کے اختتام پر جب برطانوی فوجی افغانسان سے لوٹیں تو افغانستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو چکا ہو۔

اسی بارے میں