ایران سے بات چیت، اتفاقِ رائے نہ ہو سکا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیٹ لائٹ سے لی گئی تصاویر کے مطابق ایران کے پارچن نامی فوجی کامپلیکس میں ایسا لگ رہا ہے کہ ایرانی ٹیمیں حالیہ جوہری سرگرمیوں کے ثبوت چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

دنیا کی چھ بڑی عالمی طاقتیں اس بات پر متفق نہیں ہو سکی ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے پر اس سے کتنا سخت رویہ اختیار کیا جائے۔

ایران سے جوہری معاملات پر مذاکرات کی تیاری کے سلسلے میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، روس، فرانس اور چین کے نمائندوں کا اجلاس آسٹریا کے شہر ویانا میں منعقد ہوا۔

مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کے ساتھ تعاون نہیں کیا جس پر سخت تنقید کی جانی چاہیے لیکن روس اور چین اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مفاہمتی ذرائع استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب ایران اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف اور صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے میں منعقدہ اجلاس میں سفارتکاروں نے ایران کے ایک فوجی مرکز کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے ہیں کہ وہاں جوہری سرگرمیوں کے ثبوت چھپانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

سفارتکاروں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کے مطابق ایران کے پارچن نامی فوجی کمپلیکس میں ٹرک اور زمین کھودنے والی مشینری کی موجودگی سے لگتا ہے کہ ایران حالیہ جوہری سرگرمیوں کے ثبوت مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

آئی اے ای اے بھی ماضی میں کہہ چکا ہے کہ اسے شک ہے کہ ایران پراچن کمپلیکس کو جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

ایران نے پیر کو کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے اسلحہ انسپکٹرز کو مستقبل میں تہران کے جنوب میں واقع پراچن فوجی اڈے کے معائنے کی اجازت دے سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انسپکٹرز 2005 میں آخری مرتبہ پراچن گئے تھے لیکن انہیں اڈے میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے بروز پیر امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیل کی ایک حمایتی لابی سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے امریکہ طاقت کے استعمال سے جھجکے گا نہیں لیکن سفارتکاری اب بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ کا بھی ایک بیان سانے آیا تھا جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے جوہری عزائم مشرقِ وسطٰی میں ایک نئی سرد جنگ شروع کر سکتے ہیں۔

.".

اسی بارے میں