كوكا کولا، پیپسی کے فارمولے میں تبدیلی

Image caption فزی ڈرنك یا گیس والے مشروبات کی مارکیٹ میں كوكا کولا اور پیپسی کا حصہ نوّے فیصد ہے

كوكا کولا اور پیپسی بنانے والی کمپنیوں نے کینسر سے متعلق انتباہ بوتل پر چھاپنے سے بچنے کے لیے اپنے مشروبات کا فارمولا یا اجزائے ترکیبی تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے حکام کا کہنا ہے کہ کوک اور پیپسی میں ایسے مادے کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے کینسر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ریاست کے قانون کے مطابق ان كمپنیوں کو اپنے مشروبات میں اس مادے کی موجودگی کا انتباہ بوتل پر چھاپنا چاہیے یا پھر انہیں مشروبات بنانے کا طریقہ تبدیل کرنا ہوگا۔

اسی وجہ سے ان دونوں کمپنیوں نے كیلیفورنیا میں فروخت کیے جانے والے مشروبات کے اجزائے ترکیبی بدل دیے تھے اور اب اسے پورے امریکہ میں نافذ کیا جا رہا ہے۔

مشروبات بنانے کے نئے طریقے میں كوكا کولا اور پیپسی کا رنگ لانے کے لیے استعمال کیے جانے والے مادے کی مقدار کم کی جائے گی۔

ایک تحقیق میں اس مادہ کے استعمال سے چوہوں میں کینسر کا تعلق تو ثابت ہوا ہے لیکن اس سے انسانوں کی صحت کو خطرے کی بات کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

امریکہ کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا دعویٰ ہے کہ تحقیق میں اس مادے کو جس مقدار میں چوہوں کو دیا گیا، اس سطح تک پہنچنے کے لیے ایک شخص کو کوک یا پیپسی کی ایک ہزار بوتلیں پینی ہوں گی۔

كوكا کولا کی نمائندہ ڈیانا گارجا نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا، ’ہم نہیں مانتے کہ عوام کو ہمارے مشروبات سے کوئی خطرہ ہے لیکن ہم نے مشروبات بنانے کا طریقہ اس لیے تبدیل کرنے کو کہا تاکہ انہیں سائنسی طور پر تنبہیی پیغام نہ چھاپنا پڑے‘۔

کوک اور پیپسی بنانے والی کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ فارمولا تبدیل کرنے کے باوجود لوگوں کو ذائقے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا۔

بروریز ڈائجسٹ نامی ایک کاروباری میگزین کے مطابق كوكا کولا اور پیپسی مل کر فزی ڈرنك یا گیس والے مشروبات کی مارکیٹ کا نوّے فیصد حصہ کنٹرول کرتے ہیں۔