روس: پوتن کے انتخاب کے خلاف مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنیچر کو ماسکو میں ہونے والا مظاہرہ شاہراہِ اربات پر ہوا

روس میں گزشتہ ہفتے ہونے والے صدارتی انتخابات میں ولادیمیر پوتن کی کامیابی کے بعد دارالحکومت ماسکو سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

روسی حکام نے ماسکو میں پچاس ہزار افراد کے اجتماع کی اجازت دی تھی لیکن شہر کے مرکزی علاقے میں ہونے والے مظاہرے میں بیس ہزار کے قریب افراد شریک ہوئے۔

پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی وجہ سےگزشتہ دسمبر سے روس میں احتجاجی مظاہروں کی ایک لہر جاری ہے۔اب روسی اپوزیشن نے صدارتی انتخاب میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے اور یہ احتجاج بھی اسی سلسلے میں کیا گیا تاہم اس مرتبہ مظاہرین کی تعداد کہیں کم تھی۔

روسی انتخابات پر نظر رکھنے والے انتخابی مبصرین کا کہنا ہے کہ نتائج ولادیمیر پیوتن کے حق میں کرنے کے لیے دھاندلی ہوئی تاہم غیر ممالک کے اس انتخاب کو درست تسلیم کیا ہے۔

ماسکو سے بی بی سی کے ریچرڈ گیلپن کا کہنا تھا کہ حزبِ اختلاف کے چند رہنماؤں نے پہلے ہی سنیچر کو منعقدہ مظاہرے میں زیادہ لوگوں کی آمد کا امکان رد کر دیا تھا اور اس کی وجہ پوتن مخالف تحریک کی وزیرِاعظم پوتن کے صدر بننے سے روکنے میں ناکامی بتائی گئی تھی۔

سنیچر کو ماسکو میں ہونے والا مظاہرہ شاہراہِ اربات پر ہوا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس مظاہرے میں پچیس ہزار افراد شریک تھے جبکہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے یہ تعداد دس ہزار کے قریب بتائی ہے۔

خبر رساں ایجنسی تارتاس کے مطابق ماسکو میں حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کو مظاہرے کے موقع پر پچیس سو سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں