مسلح شدت پسندوں کی موجودگی میں مذاکرات بے نتیجہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ملاقات ایک مثبت ماحول میں ہوئی

شام کے صدر بشارالاسد کا کہنا ہے کہ جب تک ’مسلح دہشتگرد گروہ‘ ملک میں سرگرم ہیں کسی قسم کے سیاسی مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے یہ بات اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان سے ملاقات میں کہی جو شام میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے میں دمشق پہنچے ہیں۔

شام کی اپوزیشن جماعتیں متحد نہیں: تجزیہ

روس شام کا حامی کیوں ہے: تجزیہ

بشار الاسد کا کہنا تھا کہ شام مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کسی بھی ایماندارانہ اور سنجیدہ کوشش کی حمایت کرے گا۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سنیچر کو کوفی عنان اور بشار الاسد کی ملاقات ایک مثبت ماحول میں ہوئی ہے۔

شامی خبر رساں ادارے ثناء کے مطابق شامی صدر نے کہا کہ ’شام کو جن واقعات کا سامنا ہے وہ ان کا حل نکالنے کے لیے کسی بھی ایماندارانہ کوشش کو کامیاب بنانے کے لیے تیار ہے‘۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’کوئی بھی سیاسی بات چیت یا سیاسی عمل اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک مسلح دہشتگرد گروہ ملک میں کام کر رہے ہیں اور افراتفری پھیلا کر عدم استحکام کا سبب بن رہے ہیں‘۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا تھا کہ کوفی عنان شام میں فوج اور اپوزیشن دونوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کریں گے تاہم سنیچر کو کوفی عنان کی دمشق آمد کے موقع پر ہی یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ شامی فوج نے شمالی مغربی شہر ادلیب پر گولہ باری کی ہے۔

اپوزیشن گروپوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج کی جانب سے ترک سرحد کے قریب واقع شہر ادلیب پر حملوں کا سلسلہ سنیچر کو بھی جاری رہا ہے۔

شامی حزبِ اختلاف کی ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حکومتی افواج کے ادلیب پر حملے اس وقت بھی جاری رہے جب شامی صدر اور کوفی عنان کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے۔ لندن میں مقیم ہون کاکو کا کہنا ہے کہ شام میں موجود کارکنوں کا کہنا ہے کہ ادلیب کو شدید بمباری کا سامنا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق سنیچر کو ہونے والی بمباری اب تک کی شدید ترین کارروائی تھی۔ ایک کارکن نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو فون پر بتایا کہ حکومتی فوج کے ٹینک شہر میں داخل ہو رہے ہیں۔

کوفی عنان نے دمشق روانگی سے قبل نیویاک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بتایا تھا کہ وہ دمشق میں شام کے صدر بشارالاسد اور شام کے وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے۔

بان کی مون نے کہا کہ ’ہماری ترجیح ہر قسم کے تشدد کا فوری خاتمہ ہے چاہے وہ حکومت کی جانب سے ہو یا اس کے مخالفین کی طرف سے۔ میں نے کوفی عنان پر زور دیا ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ فوری طور پر جنگ بند ہوجائے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی فوج نے شمالی مغربی شہر ادلیب پر گولہ باری کی ہے

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر فریقین ایک ساتھ جنگ بندی پر تیار نہیں ہوتے تو حکومتی فوج پہلے جنگ بند کرے اور پھر اپوزیشن یہ کام کرے۔

شام میں حکومت مخالف کارکنوں نے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی برائے شام کوفی عنان کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

مرکزی اپوزیشن کے رہنما برہان غالیون کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں جبکہ شام کے شہری روزانہ قتل کیے جا رہے ہیں ایسا مطالبہ مایوس کن ہے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے امدادی کارروائیوں کی سفیر ویلیری ایموس نے کہا تھا کہ شام میں ایک اندازے کے مطابق پندرہ لاکھ لوگوں کو خوراک کی ضرورت ہے۔

ویلیری ایموس نے شام کے دورے سے واپسی پر بی بی سی کو بتایا کہ شامی حکومت اس بات پر راضی ہو گئی ہے کہ اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی جہاں پر لوگوں کو فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے۔

ویلیری ایموس کا کہنا ہے کہ شام میں پرتشدد واقعات سے متاثرہ علاقوں میں امداد کی رسائی کے حوالے سے معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ شامی حکومت سے متاثرہ علاقوں میں مکمل رسائی کی درخواست کی گئی تھی لیکن حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی۔

انھوں نے حمص شہر کے ضلع بابا امر کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وہاں شامی فوج کی ہفتوں تک جاری رہنے والے بمباری سے ’ہر عمارت‘ متاثر ہوئی ہے۔

ویلیری ایموس کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ ہفتے تک امدادی کارروائیوں کی ضرورت کا اندازہ لگا لیا جائے گا اور دمشق میں اقوام متحدہ کی ٹیم وہاں کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

’ میں نے ان کو ایک جامع سمجھوتہ کا منصوبہ فراہم کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ اس پر دستخط کر دیں گے۔‘

ایموس کے مطابق’ ابتدائی نوعیت کا تعین کرنے کی اجازت دی گئی ہے کہ لوگ کہاں ہیں اور ان کی کیا ضرورت ہیں لیکن مجھے اس سے بہت زیاہ جامع تعین کی ضرورت ہے‘۔

شام میں اپوزیشن گروپوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ملک بھر میں مزید ستتر افراد پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے جن میں سے چھبیس حمص،اٹھائیس ادلیب، چھ درعا، چار حما، نو دمشق اور اس کے نواح، دو لطاکیہ اور ایک ایک بوکمل اور الیپو میں مارے گئے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران شام میں پرتشدد واقعات میں مارے جانے والوں کی تعداد ساڑھے سات ہزار سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں