صومالیہ: الشباب کے ساتھ جھڑپ، درجنوں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption الشباب کا دعوٰی ہے کہ اس نے حملے کے دوران ایتھوپیا کے تہتّر فوجیوں کو ہلاک کیا

صومالیہ میں ایتھوپیا کے ایک فوجی اڈے پر شدت پسند تنظیم الشباب نے حملہ کیا ہے جس میں اطلاعات ہیں کہ درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ حملہ وسطی گیڈو میں واقع یُرکٹ گاؤں میں قائم اڈے پر دو اطراف سے کیا گیا۔

الشباب کا دعوٰی ہے کہ اس نے حملے کے دوران ایتھوپیا کے تہتّر فوجیوں کو ہلاک کیا جبکہ صومالیہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی حملے میں اڑتالیس شدت پسندوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

بی بی سی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گزشتہ نومبر میں ایتھوپیا کی فوجوں کے صومالیہ میں داخل ہونے کے بعد سے اب تک یہ اُس کی سب سے زیادہ خونریز جھڑپ ہے۔

یہ جھڑپ کوئی تین گھنٹے تک جاری رہی تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کی تصدیق انتہائی مشکل امر ہے۔

یہ جھڑپ ایتھوپیا کی سرحد کے قریب صومالی علاقے بائڈوا میں ہوئی جسے ایتھوپیا کی فوج نے گزشتہ ماہ الشباب سے چھینا تھا۔

یہ جھڑپ افریقی یونین کے اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ بائڈوا سے ایتھوپیا کی فوج کا انخلاء شروع کردیا جائے گا۔

افریقی یونین کے امن اور سکیورٹی کے کمشنر رمتنے لمارا نے کہا تھا کہ ایتھوپیا کی فوج کی جگہ جبوتی، یوگنڈا اور بورونڈائی کی فوج لیں گی۔

نیروبی میں بی بی سی مشرقی افریقہ کے نامہ نگار وِل راس کا کہنا ہے کہ شدت پسند عسکری طور پر ہوسکتا ہے کمزور ہوگئے ہوں لیکن حالیہ کئی حملوں کے ذریعے وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ کوئی کرائے کے جنگجو نہیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں ووٹنگ کے ذریعے افریقی یونین کے امن فوج کی تعداد سترہ ہزار تک کرنے کی منظوری دی ہے۔

صومالیہ میں الشباب کے ساتھ کینیا کی فوج بھی برسرِپیکار ہے اور توقع ہے کہ اسے اگلے ہفتے امن فوج کا حصہ بنا دیا جائے گا۔

اسی بارے میں