زلزلے اور سونامی سے ہلاکتوں کی پہلی برسی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زلزلے اور سونامی سے ہلاک ہونے والوں کو لوگ خراج عقیدت پیش کررہے ہیں

جاپان میں زلزلے اور سونامی کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے جس میں گزشتہ سال لگ بھگ بیس ہزار لوگ ہلاک یا لاپتہ ہو گئے تھے۔

اِس زلزلے اور سونامی کے بعد فوکوشیما کے جوہری گھر سے تابکاری شعاؤں کا اخراج شروع ہو گیا تھا۔

اتوار کو عین اس وقت جاپان میں سائرن بجائے جائیں گے جب پچھلے سال زلزلہ آیا تھا۔

دارالحکومت ٹوکیو میں ایک قومی تعزیتی تقریب ہوگی جس میں وزیرِاعظم یوشی ہیکو نودا اور شہنشاہ اکی ہیٹو شرکت کریں گے۔ برسی سے ایک روز قبل سے ہی قبرستانوں میں لوگوں کی آمد شروع ہو گئی جہاں انہوں نے مرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

جاپان میں زلزلے اور سونامی سے تقریباً سولہ ہزار افراد کی موت ہوئی اور اور تین ہزار سے زیادہ افراد اب تک لاپتہ ہیں۔

شمال مشرقی قصبے، یمادا میں، روزانہ درجنوں غوطہ خور، لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے لنگر انداز ہوتے ہیں۔

ایک غوطہ خور نے بی بی سی کو بتایا ’لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو کچھ نہ کچھ واپس چاہیے، اپنے عزیزوں کی یادیں زندہ رکھنے کے لیے، چاہے وہ جسم کا کوئی حصہ ہی ہو، ہم اپنی تلاش جاری رکھیں گے۔‘

اسی بارے میں