پنجوائی میں امریکی فوجی کی حرکت پر شدید غصہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پنجوائی کے چھوٹے سے قصبے کے یہ کاشت کار لوگ تڑپتے رہ گئے ہیں۔

امریکی فوجی کے ہاتھوں سولہ افغان شہریوں کے قتل کے واقعے کے ایک روز بعد پنجوائی میں ایک افغانی صحافی نے لوگوں کا غم و غصہ بیان کیا۔

سیکورٹی خدشات کی وجہ سے اس صحافی کا نام نہیں بتایا گیا۔

طالبان کو وہاں پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگی اور وہ جنوبی افغانستان کے دیہی علاقے کے لوگوں کو احتجاج پر اکسانے لگے تاہم علاقے کے بزرگوں کا کہنا تھا کہ وہ بدامنی نہیں پھیلنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ شخص جس نے گھر گھر جا کر لوگوں کو مارا، اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

تمام ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ اتوار کے روز غروبِ آفتاب کے وقت پڑھائی گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل تھے۔

پنجوائی کے چھوٹے سے قصبے کے یہ کاشت کار لوگ تڑپتے رہ گئے ہیں۔

پنجوائی کے رہائشی سید محمد نے مجھے بتایا ’ہم نہیں چاہتے کہ اتحادی فوجیں یہاں رہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ ہمارے گاؤں واپس آئیں۔ وہ ہمارے گھروں میں گھسے ہیں اور انہوں نے ہمارے گھر والوں کو مارا ہے۔‘

علاقے میں ایک گھر پر خواتین جمع ہیں جہاں رہنے والے خاندان کے چار افراد اس واقعے میں مارے گئے ہیں۔ علاقے میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے اتحادی فوجوں کے بارے میں لوگوں میں شکوک اب غصے میں بدلتے جا رہے ہیں۔

ایک نوجوان نے مجھے اشتعال میں کہا ’یہ پہلی بار نہیں کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہو۔‘

یہاں بہت سے مقامی لوگوں کے لیے اس امریکی فوجی کی حرکت ایک وسیع تر کہانی کا حصہ ہے جس میں رات کے اندھیرے میں چھاپوں کے ساتھ ساتھ طالبان اور اتحادی فوجیوں کے مابین جھڑپوں میں شہریوں کا مارا جانا شامل ہے۔

رفیع اللہ کی ٹانگ میں گولی لگی مگر اس کو غصہ اپنے گھر کی خواتین کی بے عزتی پر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس فوجی نے چند خواتین کو گولی مارنے کے بعد ان کے کپڑے اتارے۔

ایک خاتون جو اس واقعے میں اپنا بیٹا کھو چکی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ افغان صدر حامد کرزئی کو یہ درد صرف تب سمجھ آئے گا اگر وہ خود اس میں سے گزریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا دل کرتا ہے کہ خدا کرزئی سے اس کا بیٹا چھین لے تاکہ اس کو یہ درد سمجھ آئے۔‘

ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کے بعد لوگوں کا دل کرتا ہے کہ وہ طالبان سے جا ملیں اور اتحادی فوجوں کو ملک سے باہر نکالنے کی کوشش کریں۔

زیادہ تر مقامی لوگوں کا خیال تھا کہ یہ صرف ایک فوجی کا کام نہیں تھا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ رات دو بجے وہ ہیلی کاپٹروں کی آواز سے اٹھیں۔ دوسروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے علاقے میں کمپیوٹر آلات دیکھے۔

حقیقت جو بھی ہو، یہ واقعہ نیٹو کی افغانستان میں مہلک واقعات کی کہانی میں ایک اور باب ہے۔

ایک خاتون کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک شخص کو اپنے گھر داخل ہوتے دیکھا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ خاموش رہے کیونکہ ممکن ہے کہ یہ ایک چھاپہ ہو۔

گولیوں کی آواز آنے کے ایک گھنٹے بعد وہ اپنے بھائی کے گھر گئی تو انہوں نے دیکھا کے اس کے تمام گھر والوں کے لاشوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔

طالبان کے ایک گڑھ اور نیٹو فوجی اڈے والے اس قصبے میں رہنے والوں نے اپنی مشکلات کا بتایا۔

پنجوائی کے لوگ اس جنگ میں دونوں طرف سے پس رہے ہیں۔ طالبان کے زیرِ استعمال مشجد اور نیٹو کے فوجی اڈے میں صرف چند ہی کلومیٹر کا فرق ہے۔

البتہ وہ جنوبی افغانستان کے عام لوگوں کی طرح تھے۔ ان میں سے بیشتر انگوروں کے کاشت کار ہیں مگر یہاں ایک سادہ زندگی گزارنا مشکل لگتا ہے۔

انہوں نے نیٹو کے بنائے ہوئے معمول کے بارے میں بھی شکایت کی۔ اکثر وہ شام ہونے کے بعد طلوعِ آفتاب تک گھر سے نہیں نکل سکتے۔

دوسری جانب طالبان ان پر نیٹو حمایتی ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کی تمام زندگی خوف میں گزر رہی ہے۔

ان پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک مقامی رہائشی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے گھروں میں ہی قیدی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ ہمیں رات کو مسجد نہیں جانے دیتے اور اور اگر ہم میں سے کوئی بیمار ہو جائے پھر بھی ہم کہیں نہیں جا سکتے۔‘

اس گاؤں کے بہت سے لوگ پہلے بھی اس جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کر چکے ہیں اور شاہد انہیں یہ دوبارہ کرنا پڑے۔

اسی بارے میں