چین: چوبیس ہزار بچے، خواتین بازیاب

چین میں حکام کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار گیارہ میں اغوا ہونے والے چوبیس ہزار چینی بچوں اور عورتوں کو بازیاب کرایا گیا۔

چین میں عوام کے تحفظ کے حوالے سے کام کرنے والی وزارت کے مطابق اغوا کیے جانے والوں میں سے بعض کو گود لینے کے لیے اور زبردستی جسم فروشی کے لیے ملک سے دور جیسا کہ منگولیا جیسے ممالک میں فروخت کر دیا گیا تھا۔

وزرات نے انسانی سمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا عزم کیا ہے۔

تاہم وزارتِ نے یہ نہیں بتایا کہ گزشتہ سال کتنی تعداد میں عورتوں اور بچوں کو اغوا کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے اغوا کیے جانے والے آٹھ ہزار چھ سو بچوں اور پندرہ ہزار چار سو اٹھاؤن عورتوں کو انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کر کے بازیاب کرایا۔

وزارت کا کہنا ہے کہ عوامی تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں اپنی مہم کو وسعت دی ہے تاکہ خواتین اور بچوں کو اغوا ہونے سے بچایا جا سکے اور انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چین میں خاص طور پر بچوں کا اغوا اور سمگلنگ ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں پولیس نے انسانی سمگلنگ میں ملوث دو گروہوں کے خلاف کارروائی کر کے دو سو بچوں کو بازیاب کرایا تھا جبکہ دس صوبوں میں کارروائی کے دوران چھ سو افراد کو حراست میں لیا گیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ چین میں ایک بچے کی سرکاری پالیسی کے نتیجے میں بچوں کی فروخت کے غیرقانونی کاروبار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خاندان خواتین اور بچوں کو اضافی محنت مزدوری، گھروں میں کام کرانے کے لیے اور غیر شادی شدہ بیٹوں سے شادی کے لیے خریدتے ہیں۔

چین میں خیال کیا جا رہا ہے کہ نقل و حرکت میں آزادی اور معاشی اصلاحات کے نتیجے میں انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کو زیادہ آزادی سے کام کرنے کا موقع ملا ہے۔

اسی بارے میں