غزہ پر اسرائیلی حملے تیسرے روز بھی جاری

حملے کے بعد کی تصویر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غزہ شہر پر دوسرے دن کے ہوائی حملوں کے بعد تیسرے دن فلیسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد بیس ہوگئی ہے۔

فلسطینی علاقے غزہ میں جاری اسرائیلی فضائی حملے تیسرے روز بھی جاری ہیں جنہیں عرب لیگ نے ’قتل عام‘ قرار دیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کو جبالیہ مہاجر کیمپ کے قریب حملے میں ایک بارہ سالہ بچہ ہلاک ہوا ہے۔ تاہم غزہ شہر پر دوسرے دن کے ہوائی حملوں کے بعد تیسرے دن فلیسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد بیس ہوگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق فلیسطینی انتہا پسندوں نے اسرائیل پر راکٹ داغے ہیں۔

اس سے قبل فلسطینی ذرائع کا کہنا تھا کہ دو روز کے حملوں اور لڑائی کے دوران کم از کم پندرہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا تھا کہ جب سے لڑائی شروع ہوئی ہے، غزہ سے کم و بیش ایک سو راکٹ فائر کیے گئے جو اسرائیلی سرزمین پر گِرے۔

امریکہ نے غزہ کی جانب سے راکٹ کے حملوں کو ’بزدلانہ‘ قرار دیا ہے جبکہ عرب لیگ نے اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کو ’قتل عام‘ قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین نے اِن واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

تشدد کی تازہ لہر جمعہ کو شروع ہوئی جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملوں کے دوران پی آر سی یعنی پاپولر رزسٹنس کمیٹی کے سکریٹری جنرل کمانڈر زوہیر القاسمی اپنے دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے۔

غزہ میں عسکریت پسندوں نے فوری ردعمل کے طور پر جنوبی اسرائیل میں راکٹوں کی بارش کردی۔

فلسطین میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہفتے کو ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی قصبے رفاہ میں ایک شخص جبکہ خان یونس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

ان کے مطابق دو روز کی بمباری کے دوران کم سے کم چھبیس فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جن میں پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ راکٹوں کے حملوں میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے آئرن ڈوم میزائل شکن نظام نے اٹھائیس راکٹوں کا جو آبادی کی جانب داغے گئے تھے رخ موڑ دیا۔

اتوار کو جنوبی اسرائیل میں رہنے والی کمیوٹنیوں کے سکول بند رہیں گے۔ اسرائیلی میڈیا نے کہا ہے کہ سکولوں کی بندش کے باعث دو لاکھ طالبِ علم متاثر ہوں گے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ میں کئی اہداف پر حملے کیے جن میں ایک ’دہشت گرد سکواڈ‘ بھی شامل تھا جو راکٹ داغنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

اسرائیل کے بقول فضائی حملے دراصل راکٹ داغے جانے کا ردعمل ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود بارک نے کہا ’اسرائیلی فوج ہر اس شخص کو ہدف بنائے گی جو اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرے گا۔‘

علاقے میں تشدد میں اضافے نے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو امن مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوششیں تیز کریں۔

اسی بارے میں