’شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابل معافی ہے‘

ایک امریکی فوجی کی فائل تصویر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گولی چلانے کے بعد فوجی نے اپنے آپ کو امریکی فوج کے حکام کے حوالے کردیا، ہلاک ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان کے صوبہ قندھار میں ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں سولہ افغان شہریوں کی ہلاکت کے واقعے کوالمناک اور دہل جانے والے واقعہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب افغان صدر نے عام شہریوں کی ہلاکت کو ناقابلِ معافی قرار دیا ہے اور واشنگٹن سے اس واقعے کی وضاحت طلب کی ہے۔

ایک امریکی فوجی نے صوبہ قندھار میں ایک فوجی اڈے سے باہر نکل کر شہریوں پرگولیاں چلا دیں جس کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل ہیں۔

صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی کے ہاتھوں ہلاکتوں کا واقعہ امریکی فوج یا امریکہ کی افغانیوں کے لیے عزت کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔

امریکی صدر نے افغان صدر کرزئی کو فون کر کے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔

افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں قندھار میں شہریوں کی ہلاکتوں کو’ دانستہ قتل‘ قرار دیا ہے۔

’جب امریکی فوج کی جانب سے دانستہ طور پر افغان شہریوں کو ہلاک کیا جاتا ہے تو یہ قدم قتل، دہشت پھیلانا اور ایک ناِقابل معافی فعل ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی خبر وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچے گی تو اس کے نتیجے میں غم و غصے کی ایک لہر پیدا ہو سکتی ہے۔

صوبے کے گورنر توریالائی ویسا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قندھار کے پنجوائی ضلع میں پیش آیا۔

اطلاعات ہیں کہ یہ فوجی صبح سویرے فوجی اڈے سے نکلا اور قریب واقع دو گھروں میں گُھس کر رہائشیوں پر فائرنگ کر دی۔ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ امریکی فوجی ذہنی طور پر پریشان تھا۔ تاہم گولیاں چلانے کے بعد اس نے اپنے آپ کو امریکی حکام کے سپرد کردیا۔

امریکی فوج نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں اس ’قابل مذمت‘ واقعے کا بے حد افسوس ہے۔ تاہم نیٹو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے حکام اس تشویشناک واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب کابل میں امریکی سفارتخانے نے خبر دار کیا ہے کہ پنجوائی ضلع میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں اس لیے فی الوقت وہاں کا سفر نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغانستان میں امریکی فوجیوں کی جانب سے قرآن جلائے جانے کے واقعے کے بعد امریکہ مخالف جزبات بھڑکے ہوئے ہیں۔

اگرچہ قران جلائے جانے کے واقعے کے بعد امریکی حکام نے معافی مانگ لی تھی لیکن اس کے باوجود افغانستان میں امریکہ مخالف احتجاج اور حملے ہوئے تھے جس میں امریکی فوجیوں سمیت تقریباً چھتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں