پاکستان میں ڈرون حملے، برطانیہ میں مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانوی وزارتِ خارجہ نے اس مقدمہ کے پر یہ کہہ کر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیرِ التواء ہے

برطانیہ میں انسانی حقوق کے وکلاء پیر کو وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ کے خلاف پاکستان میں ڈرون طیاروں سے حملے کرنے میں مبینہ خفیہ معلومات کے ذریعے امریکہ کو مدد فراہم کرنے سے متعلق اپنا مقدمہ پیش کریں گے۔

یہ مقدمہ لندن کی ہائی کورٹ میں ہوگا جسے نور خان نے دائر کررہے ہیں جن کے والد امریکی ڈرون طیارے کے ایک حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

وکلاء کی ایک کمپنی لیہڈے اینڈ کو، کے وکلاء کا کہنا ہے کہ سویلین انٹیلی جنس افسران جنہوں نے امریکہ کو معلومات فراہم کیں وہ اس مقدمہ میں ثانوی مدعا علیہ ہوں گے۔

وزارتِ خارجہ نے اس مقدمہ پر یہ کہہ کر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

اس مقدمہ میں عالمی امدادی تنظیم ’ریپریو‘ کے وکلاء بھی شامل ہیں جو یہ وضاحت کرنے کی کوشش کریں گے کہ ایسے معاملات میں امریکہ کی مدد کرنے کے لیے برطانیہ کی کیا پالیسی ہے۔

لیہڈے اینڈ کو کا کہنا ہے کہ نور خان کے والد ملک داؤد، شمال مغربی پاکستان کے قبائلی علاقے میں بزرگوں کی کونسل کے رکن تھے اور جب ڈرون طیارے سے حملہ ہوا تو وہ ایک اجلاس میں شریک تھے۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ ولیم ہیگ نے برطانوی خفیہ معلومات کی فراہمی کی پالیسی کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں امریکی فورسز کو دیں جو شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔

اس مقدمہ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی کہ پاکستان بین الاقوامی تنازع میں شامل نہیں ہے۔

شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں خیال کیا جاتا ہے کہ ملک داؤد بھی شامل تھے تاہم آزاد ذرائع سے تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی کیونکہ نامہ نگار کو متاثرہ علاقے تک سفر کرنے کی حکام نے اجازت نہیں دی تھی۔

دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں بغیر پائلٹ یا ڈرون طیارے امریکہ کا انتہائی اہم ہتھیار ہیں جن سے مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔

تاہم کئی پاکستانی ایسی کارروائیوں کو اپنے ملک کی خودمختاری کی صریحاً خلاف ورزی اور شہریوں کی ہلاکت کا سبب سمجھتے ہیں۔

اسی بارے میں