’شیطان کے پجاری‘ قرار دے کر 58 افراد قتل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراق کی وزارتِ داخلہ نے حال ہی میں ایموز کو ’شیطان کے پجاری‘ قرار دیا تھا

انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ہدف بنا کر قتل کیے جانے کی وارداتوں میں درجنوں عراقی نوجوان ’شیطان کا پجاری‘ قرار دے کر ہلاک کردیے گئے ہیں۔

عراق میں ایسے نوجوانوں کو ایموز کہا جاتا ہے۔

مغرب میں ایموز کہلانے والے ایسے نوجوان پراسراریت وغیرہ پر یقین رکھتے ہیں اور اکثر اوقات تنگ اور چست سیاہ لباس پہنتے ہیں۔

عراق میں ان نوجوانوں کو ہم جنس پرست سمجھا جاتا ہے جو اگرچہ غیر قانونی تو نہیں مگر معاشرتی طور پر ناقابل قبول ہے۔

اطلاعات ہیں کہ عراق میں ایسے اٹھاون نوجوانوں کوسیمینٹ کی اینٹ سے سر کچل کر ہلاک کیا گیا جن میں زیادہ تر مرد تھے۔

عراق کی وزارتِ داخلہ نے حال ہی میں ایموز کو ’شیطان کے پجاری‘ قرار دیا تھا۔

وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ ہم جنس پرستی یا ایمو کی بنیاد پر اب تک کسی کو قتل نہیں کیا گیا ہے کیونکہ ایسا کوئی کیس ان کے ریکارڈ میں نہیں ہے تاہم اُس کا کہنا ہے کہ بغداد میں ہونے والی حالیہ قتل کی وارداتوں کی وجہ بدلہ یا پھر سیاسی اور معاشرتی اسباب ہوسکتے ہیں۔

بغداد کے شیعہ اکثریت کے علاقے میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے جن میں بیس نوجوانوں کے نام تحریر تھے اور کہا گیا تھا کہ یہ نوجوان سزا کے مستحق ہیں۔

شیعہ رہنماء مقتدا الصدر نے ایموز نوجوانوں کو ’مجنوں اور احمق‘ قرار دیا ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ایسے نوجوانوں سے قانونی طریقے سے نمٹا جائے۔

ان کے بقول ’یہ مسلم معاشرے پر دھبہ ہیں اور ذمہ دار حکام کو ایسے افراد سے نمٹنا چاہیے۔‘

ایک عراقی شہری مصطفٰی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ سیاہ لباس پہنتے ہیں تو خوف محسوس کرتے ہیں۔

نیویارک میں واقع ہم جنس پرستی کے انسانی حقوق کے عالمی کمیشن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ عراق میں فروری سے ہم جنسی پرستی کے خلاف شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں کم سے کم چالیس افراد کو اغواء کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر انہیں قتل کردیا گیا۔