’امریکی فوجی کی تنِ تنہا کارروائی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صرف ایک امریکی فوجی کی تنِ تنہا کارروائی میں سولہ افغان شہری ہلاک ہوئے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اتوار کو علی الصبح افغان شہریوں کی ہلاک کا واقعہ افسوسناک ہے تاہم یہ امریکی فوجی کا انفرادی فعل تھا۔

’ایک سے زیادہ امریکی فوجی مکان میں داخل ہوئے‘

محکمہ دفاع کے مطابق امریکی فوجی سے تفتش کی جا رہی ہے اور ہر طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس کا انفردی فعل تھا۔

فرانیسسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون نے افغان پارلیمان کی قرارداد میں اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہلاکتوں کے واقعے میں ملوث فوجی کے خلاف افغان عدالت میں عوامی مقدمہ چلایا جائے۔

پینٹاگون کا کہنا ہےکہ امریکی فوج اس فوجی کے خلاف خود کارروائی کرے گی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کی وجہ سے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا شیڈول متاثر نہیں ہو گا۔

دوسری جانب امریکی سیکرٹری خارجہ ہلری کلنٹن نے اقوام متحدہ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں مشکل اور الجھے ہوئے کئی ہفتے گزارے ہیں۔

’اس خوفناک واقعے کے نتیجے میں ہم افغان عوام کی حفاظت کے ثابت قدم موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور مستحکم اور مضبوط افغانستان کے لیے ہر ممکن کام کر رہے ہیں۔‘

اس سے پہلے افغان پارلیمان نے امریکی فوجی کے ہاتھوں سولہ افغان شہریوں کی ہلاکت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا ہے کہ افغان عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم امریکی فوجی پر افغان عدالت میں عوامی مقدمہ چلایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہلاکتوں کا یہ واقعہ اتوار کو علی الصبح اس وقت پیش آیا تھا جب ایک امریکی فوجی نے صوبۂ قندھار میں ایک فوجی اڈے سے باہر نکل کر شہریوں پر فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل تھے۔

فائرنگ کرنے والے امریکی فوجی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ امریکی سارجنٹ ہیں اور انہوں نے اتوار کو فوجی اڈے سے نکل کر الکوزئی اور نجیبان نامی گاؤں کے تین گھروں پر فائرنگ کی۔امریکی فوج کے مطابق امریکی سپاہی فائرنگ کرنے کے بعد فوجی اڈے میں واپس آ گیا جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کا ذمہ دار امریکی فوجی قندھار میں زیرِ حراست ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی نے امریکی حکام کی بابت بتایا کہ زیرِ حراست سپاہی کی نشاندہی نہیں کی گئی تاہم ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ سپاہی کا تعلق امریکی ریاست واشنگٹن کی لیوس میکارڈ بیس سے ہے۔

حکام کے مطابق امریکی فوجی شادی شدہ ہے اور اس کے دو بچے بھی ہیں۔ حکام کے مطابق واقعہ کا ذمہ دار امریکی فوجی اس سے پہلے عراق میں تین بار خدمات انجام دے چکا ہے اور اُسے افغانستان میں پہلی بار تعینات کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان میں ہونے والے یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب گزشتہ ماہ ہی کابل میں قرآن کے نسخے جلائے جانے کے بعد امریکہ کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا تھا جس میں حالیہ واقعے کے بعد مزید اضافہ ہو گا۔

اگرچہ امریکی حکام نے قرآن جلائے جانے کے واقعہ پر معذرت کی تھی تاہم وہ افغانستان میں ہونے والے مظاہروں کو کچلنے میں ناکام رہے تھے۔ ان مظاہروں میں چھ امریکیوں سمیت کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروی کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعہ نے کابل اور واشنگٹن کے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو ابتر کر دیا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق طالبان نے فائرنگ کے واقعہ کو اپنی پروپیگینڈا فتح قرار دیا ہے جس نے صدر حامد کرزئی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق قبائلیوں نے انصاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا موقف ہے کہ امریکہ کی معافی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

اسی بارے میں