بنگلہ دیش میں کشتی ‏غرق، سینکڑوں لاپتہ

بنگلہ دیش کی ندیوں میں کشتیاں تصویر کے کاپی رائٹ 1
Image caption بنگلہ دیش کے دریاؤں میں کشتیوں کے حادثات اکثر ہوتے رہتے ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی بنگلہ دیش کے ایک دریا میں کشتی ڈوب جانے کے باعث ایک سو سے زیادہ لوگ لا پتہ ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ دارالحکومت ڈھاکہ کے جنوب مغرب میں بہنے والی میگھنا ندی میں ہوا۔ کشتی پر تقریباً دو سو افراد سوار تھے۔

بنگلہ دیش پولیس کا کہنا ہے کہ کشتی کے ڈوبنے کے بعد کوئی پینتیس افراد کو بچا لیا گیا۔

‌غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ شریعت پور-1 نامی یہ کشتی ایک تیل کے ٹینکر سے ٹکرا گئی تھی جس کے نتیجے میں یہ حادثہ رونماء ہوا۔

امدادی ٹیمیں کشتی کے ڈوبنے کی جگہ کی نشاندہی میں مشغول ہیں۔

بنگلہ دیش میں دریاؤں کا جال ہے اور یہاں اس طرح کے حادثات اکثر رونماء ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس طرح کے واقعات میں ہرسال سینکڑوں لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔

مقامی پولیس افسر شاہدالاسلام نے ایک خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’لگ بھگ پینتیس افراد کو دوسری کشتی کے ذریعے بچا لیا گیا لیکن ابھی تک ایک سو پچاس سے زیادہ افراد کا کوئی سراغ نہیں ہے۔‘

لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کشتی ضلع شریعت پور سے ڈھاکہ جا رہی تھی۔

زیادہ تر افراد کا کہنا ہے کہ کشتی ڈوبنے کی وجہ بدانتظامی اور گنجائش سے زیادہ سواریاں تھیں۔

ملک کے مشرقی علاقے میں گزشتہ سال اپریل میں تئیس افراد اسی طرح کے ایک حادثے میں مارے گئے تھے۔ اُس کشتی میں تقریباً ایک سو افراد سوار تھے۔

اسی طرح جون دو ہزار دس میں درجنوں افراد کی اس وقت موت ہو گئی تھی جب مسافروں سے بھری ایک کشتی ڈوب گئی تھی۔

نومبر دو ہزار نو میں صرف ایک ہفتے کے دوران دو کشتیوں کے غرق ہونے کے نتیجے میں ایک سو اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں