’انسانی حقوق کی خلاف ورزی مسترد‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شمالی کوریا کے سفیر نے انسانی حقوق کے حوالے سے پیش کی جانے والی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے مارزوکی دروسمین کی پیش کی جانے والی رپورٹ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پانچ سو مندوبین پر مشتمل اقوامِ متحدہ کے اس اجلاس میں شمالی کوریا کے سفیر سوسی پیانگ کے باہر نکلتے ہی اراکین میں ہاتھا پائی ہو گئی۔

سکیورٹی حکام نے اس موقع پر ایک شخص کو گرفتار کیا تاہم بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔

اقوامِ متحدہ میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا میں ستمبر سنہ دو ہزار گیارہ سے لے کر جنوری سنہ دو ہزار بارہ کے دوران انسانی حقوق کی صورتِ حال خراب رہی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شمالی کوریا کے سیفر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اس بے مقصد رپورٹ کو مسترد کرتا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ شمالی کوریا کے سفیر نے اقوامِ متحدہ سے کہا کہ وہ اس رپورٹ کو اہمیت نہ دیں۔

شمالی کوریا کی نیوز ایجنسی یون ہیپ کے مطابق سفیر سوسی پیانگ کے ان الفاظ کے بعد جیسے ہی وہ اجلاس سے جانے لگے، شمالی کوریا کے قانون بنانے والا ایک گروپ ان کی جانب لپکا اور اس موقع پر ہاتھا پائی ہوئی۔

واضح رہے کہ جنوبی کوریا کی پارلیمان نے گزشتہ ماہ ایک قرار دار منظور کی تھی جس میں چین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مہاجرین کی وطن واپسی بند کرے اور اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی تنظیمیں بیجنگ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کرے۔

اسی بارے میں