امریکی فوجی کے ہاتھوں ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینکڑوں طالبعلموں نے جلال آباد کے مشرقی علاقے میں احتجاجی ریلیاں نکالیں

افغانستان میں امریکی فوجی کے ہاتھوں سولہ شہریوں کی ہلاکت پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے اور منگل کو اس واقعے کے خلاف جلال آباد میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

ادھر افغانستان میں شدت پسندوں نے قندھار میں اُس مقام کا دورہ کرنے والے سرکاری وفد پر حملہ کیا ہے، جہاں ایک امریکی فوجی نے سولہ شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

شہریوں کی ہلاکت کے تناظر میں طالبان نے انتقامی حملوں کی دھمکی دی تھی تاہم قبائلی سرداروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس واقعہ کے خلاف احتجاج کی کال نہیں دے رہے۔

گزشتہ ماہ کابل میں فوجیوں کے ہاتھوں قران کے نسخے جلائے جانے کے بعد افغانستان میں پرتشدد واقعات ہوئے تھے اور اب بھی وہاں امریکہ کے خلاف جذبات برانگیختہ ہیں۔

منگل کی صبح سینکڑوں طالبعلموں نے جلال آباد کے مشرقی علاقے میں احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ یہ مشتعل طلباء امریکہ اور افغانستان میں تعینات غیرملکی فوجیوں کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

مظاہرے میں شامل ایک طالبعلم سلطان شاہ کا کہنا تھا کہ ’ہم قندھار میں کافر قابضین کے ہاتھوں قتل کی مذمت کرتے ہیں اور قندھار کے ہلاک شدگان کے ذمہ دار افراد پر فوری طور پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں‘۔

طلباء نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں سنہ 2014 کے بعد امریکی فوجیوں کے ملک میں قیام کے ممکنہ معاہدے پر غور نہ کرے۔

ایک طالبعلم داؤد شاہ نے کہا کہ ’ہم غیرملکی فوجیوں سے کسی قسم کی شراکت داری نہیں چاہتے۔ افغان خودمختار لوگ ہیں۔ ہم آزادی سے جینا چاہتے ہیں اور کسی ملک کی نوآبادی نہیں بننا چاہتے‘۔

سرکاری وفد پر حملہ

قندھار کے علاقے پنجوانی کا دورہ کرنے والے سرکاری وفد میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے دو بھائیوں سمیت اعلٰی سرکاری افسران شامل تھے۔

ایک سینیئر افغان اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ وفد پر کئی اطراف سے حملہ کیا گیا اور اس حملے میں ایک افغانی فوجی ہلاک اور دو دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

نامہ نگار بلال سروری کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ دس منٹ تک جاری رہا اور اس میں اس مسجد کو نشانہ بنایا گیا جس میں وفد کے ارکان موجود تھے۔ اس واقعے کے بعد وفد واپس قندھار چلا گیا۔

دریں اثناء امریکی حکام کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں پر فائرنگ کرنے والا اڑتیس سالہ امریکی سٹاف سارجنٹ اب زیرِ حراست ہے اور اسے ایک نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے یقین دلایا ہے کہ امریکی فوجی کی فائرنگ سے سولہ شہریوں کی ہلاکت کے بعد بھی بین الاقوامی فوج افغانستان چھوڑنے میں جلدبازی نہیں کرے گی۔

انہوں نے مقامی امریکی چینل سی بی ایس کو بتایا ’فائرنگ کا یہ واقعہ یقیناً دل سوز اور المناک ہے‘۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس واقعہ نے کیا انہیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اب فوج کی واپسی جلد ہونی چاہیے، انہوں نے جواب دیا ’اس واقعے نے مجھے مزید پرعزم کردیا ہے کہ میں یہ یقینی بناؤں کہ ہم اپنی فوج کو ملک واپس لائیں۔‘

تاہم انہوں نے کہا بین الاقوامی فوج کا افغانستان سے انخلاء ذمہ دارانہ انداز میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہم اس کام کو ایسے نہ کریں جس سے انخلاء جلدبازی میں ہو‘۔

براک اوباما نے کہا کہ بین الاقوامی فوجوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغانی اپنی سرحدوں کی حفاظت کرسکیں اور القاعدہ کو ملک میں واپس آنے سے روک سکیں۔

خیال رہے کہ افغانی پارلیمان کے اراکین نے ایک قرارداد کے ذریعے کہا ہے کہ اب افغانیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور اس امریکی فوجی پر افغانستان میں مقدمہ چلایا جائے تاہم امریکی وزیر دفاع نے اس واقعے میں ملوث فوجی کا مقدمہ امریکہ کی فوجی عدالت میں چلائے جانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے

لیون پنیٹا نے یہ بھی کہا ہے کہ مشتبہ فوجی اگر ہلاکتوں میں ملوث پایا گیا تو اسے سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جس فوجی نے اپنے آپ کو حوالے کیا ہے آیا اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے جس پر وزیرِ دفاع نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ ایسا ہی ہے‘۔

پینٹاگون کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں وہ اس وقت تک وہ مشتبہ فوجی کا نام ظاہر نہیں کریں گے۔ اطلاعات ہیں کہ مشتبہ فوجی تیس کے پیٹے میں ہے اور اس کے تین بچے ہیں۔

اس فوجی کو افغانستان میں دسمبر میں تعینات کیا گیا تھا اور عراق میں تین بار تعیناتی کے بعد اس کی افغانستان میں پہلی بار تعیناتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں