امریکی وکیل نے افغانستان میں ہل چل مچا دی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مس موٹلی کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ دوپٹہ نہیں اوڑھتیں۔ اگرچہ دوپٹہ کوئی قانونی تقاضا تو نہیں ہے لیکن سماجی رواج ضرور ہےG۔

امریکہ کی ایک سابق ملکۂ حسن ان دنوں افغانستان میں ہیں اور وکیل کی حیثیت سے افغانستان کے نظام عدل کو تبدیل کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔

کمبرلی موٹلی واحد وکیل صفائی ہیں جو غیر ملکی ہیں جنہوں نے اب تک ملک کے نظامِ عدل میں پھنسے ہوئے افغانوں اور غیر ملکیوں کی مدد کی ہے۔

گزشتہ سال انھوں نے ایک ایسا مقدمہ لیا جس کی بہت شہرت ہوئی، اس مقدمے میں انھوں نے گلناز نامی ایک خاتون کی نمائندگی کی جسے رشتے کی ایک بہن کے شوہر سے جنسی تعلق استوار کرنے کے جرم میں سزا ہو چکی تھی۔

اس مقدمے میں بات یہاں تک بڑھی کہ صدر حامد کرزئی کو معافی دینے اور افغان حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ عورتوں کے حقوق کے دفاع کا عزم رکھتی ہے، پہلی بار معافی دینے کا صدارتی اختیار استعمال کرنا پڑا۔

مس موٹلی محسوس کرتی ہیں کہ غیر ملکی ہونے کی وجہ سے بہت سے معاملات کو حل کرنے کے لیے انہیں ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے گلناز کے مقدمے میں آخر صدر سے معافی دینے کی درخواست کی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’گلناز کے مقدمے میں دوسرے کئی افغان وکیلوں کا خیال تھا کہ معافی کی درخواست کرنا کوئی مناسب راستہ تھا‘۔

لیکن موٹلی نے یہ راستے اختیار کیا اور یہ کارآمد بھی ثابت ہوا۔

مس موٹلی پشتو نہیں بول سکتیں لیکن وہ شرعی قوانین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ترجمے کے لیے آئی پیڈ کا ذریعہ استعمال کرتی ہیں اور جب دلائل کا مرحلہ آتا ہے تو مترجموں کے ایک ایسے گروپ کو استعمال کرتی ہیں جنہوں نے قانونی زبان کی خصوصی تربیت حاصل کی ہوئی ہے۔

ان کا طریقہ جارحانہ ہوتا ہے۔ رشوت نہ دینے کا طریقہ اختیار نہ کرنے سے بھی انھیں شدید مخالفتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھیں اکثر ایسی ای میلز موصول ہوتی رہتی ہیں جن میں انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

وہ مخلوط النسل ہیں۔ ان کے والد افریقی امریکی ہیں اور امریکی فضائیہ کے ملازم رہے ہیں اسی ملازمت کے دوران ان کی ملاقات ان کی والدہ سے ہوئی جو شمالی کوریا کی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ امریکہ میں وہ جس علاقے میں رہتی تھیں وہاں ان کے اکثر ہمسائے یا تو جیل میں تھے یا رہا ہو کر آئے تھے۔ اس کے علاوہ وہاں منشیات فروشی بھی عام تھی۔

ملازمت سے علیحدگی کے بعد ان کے والد کی کار کو ایک حادثہ پیش آ گیا لیکن ان کی انشورنس کمپنی نے ان کے اخراجات ادا کرنے سے انکار کر دیا جس کے وجہ سے ان کے خاندان کو شدید دشواریوں سے گزرنا پڑا اور اسی بات نے انھیں والدین کی خِواہش پر طب کی تعلیم حاصل کرنے کی بجائے قانون کی تعلیم حاصل کرنے پر اکسایا۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کا نظام انصاف بہت سی مشکلات کا شکار ہے اور اکثر ملزمان کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ انہیں ان کے وکیلوں سے بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا، انہیں اپنا دفاع تو کیا عدالت میں بات کرنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی۔ بہت معمولی اور بعض اوقات بغیر کسی ثبوت کے ملزمان کو سزائیں سنا دی جاتی ہیں۔

مس موٹلی کہتی ہیں کہ اس کے علاوہ رشوت اور بدعنوانی ہے ’لوگ رشوت دے کر سزائیں کم کرا لیتے ہیں‘۔

افغان وزارتِ انصاف کا کہنا ہے کہ وہ اصلاحات کے ایک وسیع تر پروگرام پر کام کر رہی ہے اور اس دوران رشوت کے الزام میں سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں بعض اعلیٰ عہدیدار بھی شامل ہیں۔

وزارت میں میڈیا کے سربراہ عبدالوکیل اوماری کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ دو سال کے دوران کابل اور دوسرے صوبوں سے ساٹھ ججوں کو برطرف اور گرفتار کیا گیا ہے‘۔

مس موٹلی کا پہلا مقدمہ ایک افریقی خاتون کا تھا جسے منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انھوں نے یہ مقدمہ اس وقت لیا جب افغان وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا اور مقدمے میں اپیل کرنے کی مدت کو گذرے ہوئے بھی تین ماہ گذر چکے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بات نے نہ صرف انھیں مایوس کیا بلکہ ایک نئی تحریک بھی دی۔

اب وہ افغان نظام انصاف اور بہت ساری مقامی باتوں کے بارے میں بہت کچھ جان گئی ہیں اور اس کے علاوہ ان کی کامیابیوں نے انہیں ایک معروف وکیل بھی بنا دیا ہے لیکن اسی بات نے ان کے کام کو اور دشوار بھی بنا دیا ہے۔

ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے گلناز کیس کو اپنی شہرت کے لیے استعمال کیا اور یہ بھی کہ وہ گلناز کے معاملے کو ذرائع ابلاغ میں اچھلنے سے نہیں روک سکیں اور اس طرح وہ گلناز کی نجی زندگی کو بھی تحفظ دینے میں ناکام رہیں۔

مس موٹلی پر یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ دوپٹہ نہیں اوڑھتیں۔ اگرچہ دوپٹہ کوئی قانونی تقاضا تو نہیں ہے لیکن ایسا سماجی رواج ضرور ہے جس کی پاسداری وہاں جانے والی اکثر خواتین کرتی ہیں لیکن مس موٹلی کا کہنا ہے کہ ان کا کام ایسا ہے کہ انہیں ویسا ہی رہنا پڑتا ہے جیسی وہ ہیں۔

اسی بارے میں