شامی فورسز کا شمالی شہر ادلب پر کنٹرول

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شام میں حزبِ مخالف کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز نے باغیوں سے کئی روز کی لڑائی کے بعد ایک اور شہر ادلب پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ فری سیریئین آرمی کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے اس علاقے میں سکیورٹی فورسز اب گھر گھر تلاشی لے رہی ہیں۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ باغی کہاں گئے اور اس علاقے میں کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اس اثناء میں شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے ایلچی نے کہا ہے کہ بشار الاسد نے امن منصوبے پر مثبت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

کوفی عنان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس ردِ عمل کو اہمیت دے رہے ہیں تاہم ان کے کچھ سوالات ہیں جن کے جواب انہیں چاہیئں۔

کوفی عنان جو اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل ہیں اور اس وقت عرب لیگ کی بھی نمائندگی کر رہے ہیں، ایک امن منصوبہ لے کر شام کے صدر بشار الاسد کے پاس گئے تھے۔ اس منصبوے میں دونوں جانب سے فوری جنگ بندی، انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور سیاسی مذاکرات کا آغاز شامل ہے۔

شام کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جہاد المقدسی نے بی بی سی کو بتایا کے صدر الاسد کا جواب مثبت ہے کیونکہ وہ کوفی عنان کے مشن کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’مسٹر کوفی عنان کے ساتھ کامیاب مذاکرات شام کے مفاد میں ہیں کیونکہ شام اس بحران کے سیاسی حل میں یقین رکھتا ہے۔‘

تاہم حکام نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ شام کے ردعمل میں سیاسی تبدیلی کے لیے وہ اقدامات واضح نہیں کیے گئے جن کے تحت صدر الاسد اقدار سے الگ ہوں گے اور مظاہرین کے خلاف کارروائی بند کرتے ہوئے شہری علاقوں سے فوج کو واپس بلایا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کوفی عنان اپنے اس مشن کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو جمعے کے دن تفصیلات سے آگاہ کریں گے

کوفی عنان اپنے اس مشن کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو جمعے کے دن تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

اسی دوران سعودی عرب اور اٹلی نے شام میں اپنے سفارتخانے بند کر دیے ہیں اور اپنا عملہ بھی وہاں سے نکال لیا ہے۔

اس سے قبل سعودی عرب نے اپنے سفیر اور دمشق سے واپس بلا لیا تھا اور شام کے سفیر کو ملک سے بے دخل کر دیا تھا۔

حالیہ ہفتوں میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے بھی دمشق میں قائم اپنے اپنے سفارتخانے بند کر دیے ہیں۔

پیر کے روز اقوامے متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر نے کہا تھا کہ گذشتہ سال مارچ میں بغاوت کے آغاز سے اب تک شام میں آٹھ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں