’ایرانی بینک عالمی بینکنگ نظام سے منقطع‘

تصویر کے کاپی رائٹ MEHR

بین الاقوامی بینکاری کے ایک یورپی نظام’سوفٹ‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ سنیچر سے ایرانی بینکوں کو اپنے نظام سے منقطع کر دے گا۔

عالمی سطح پر بینکوں کے لین دین کے نگران ادارے سوفٹ کے مطابق ایرانی کو سسٹم سے الگ کرنے کا مقصد اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو نافذ کرنا ہے۔

اس اقدام سے ایران کو معاشی تنہائی کا سامنا ہو گا کیونکہ پابندی کی وجہ سے اس کے لیے ملک سے باہر سرکاری بینکوں سے رقم کا لین دین کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

اس فیصلے سے جہاں ایران کی تیل کی صنعت کو نقصان پہنچےگا وہیں بیرون ملک مقیم ایرانی شہریوں کو بھی اپنے ملک رقم بھیجنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بینکاری نظام سے ایران کو باہر نکالنے کا فیصلہ یورپی اتحاد کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں کے نفاذ کے بعد ہوا ہے۔

یورپی ملک بیلجئیم میں قائم بین الاقوامی بینک کاری کے نظام سوفٹ یا سوسائٹی فار ورلڈ وائڈ انٹربینک فنانشل ٹیلی کیمونیکشن کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تقریباً تمام بینکوں کے لین دین کا عمل کنٹرول ہوتا ہے۔

سنیچر کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق شام چار بجے سوفٹ ایرانی بینکوں کو اپنے نظام سے الگ کر دے گا۔

سوفٹ کے چیف ایگزیکٹو لازارو کیپموس کا کہنا ہے کہ’ایرانی بینکوں کو نظام سے الگ کرنے کا قدم سوفٹ کے لیے غیر معمولی اور بے مثال ہے۔ یہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت کرنے کی بین الاقوامی کارروائی کا براہ راست نتیجہ ہے۔‘’

اس قدم سے ایران کا کاوباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونگی۔

امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ہتھیاروں کے حصول کے لیے ہے جب کہ ایران اس کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایران نے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ متنازع جوہری پروگرام پر بات چیت پر رضامندی کا اعلان کیا تھا تاہم اس ضمن میں کوئی تاریخ اور مقام کا نہیں بتایا گیا۔

سوفٹ کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ اس کے بڑے منی ایکسچینج ہاؤسز نے گزشتہ کئی ہفتوں سے ایرانی کرنسی ریال کا لین دین کرنا ترک کر رکھا ہے۔

امریکہ کے منی لانڈنگ سے متعلق قوانین کی وجہ سے پہلی ہی ایران کی کاروباری سرگرمیاں محدود ہیں۔ ان قوانین کی وجہ سے دنیا کے تمام بینکوں کو ایران سے کاروبار کرنے کو ُپرخطر بنا دیا ہے۔

ایرانی معیشت کا بڑی حد تک اس کی تیل کی صنعت پر ہے۔

چین اور بھارت نے ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے لیکن وہ تیل کا معاوضہ سونے کی صورت میں ادا کریں گے۔

ایک ایرانی کاروباری شخصیت کا کہنا ہے کہ سوفٹ کے فیصلے کے بعد ایران سے کاروبار کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

دبئی میں ایرانی بزنس کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور جمبو لائن شپنگ ایجنسی کے مینجنگ ڈائریکٹر مرتضیٰ معصوم زادہ نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ اگر ایرانی بینک دنیا کے دوسرے بینکوں سے لین دین نہیں کر سکتے تو اس صورت میں بینکاری اور کاروباری تعلقات ختم ہو جائیں گے۔‘

اسی بارے میں