ترک شہریوں کو شام سے نکل جانے کی تلقین

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گزشتہ کچھ دنوں میں سرحد پر پناہ گزینوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے اور ہر روز تقریباً ایک ہزار ترکی شہری ملک واپس آ رہے ہیں۔

ترکی نے شام میں مقیم اپنے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ وہاں موجودہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ترکی واپس آ جائیں۔

ترکی کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دمشق میں اس کی قونصلیٹ سروسز آئندہ جمعرات سے بند کر دی جائیں گی۔ تاہم الاپو میں قونصلیٹ بند نہیں کی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ’شام میں جاری بحران کی وجہ سے ہمارے شہریوں کو سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔ تاہم ان سے درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ شام چھوڑ کر ملک واپس آجائیں۔‘

وزیرِاعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ وہ شامی شہریوں کے بعد ترکی کے سفیر کو بھی واپس بلانے کے بارے میں سوچیں گے۔

دوسری جانب ترکی کے دو صحافی بھی شام میں گمشدہ ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ سکیورٹی فورسز کے قبضے میں ہیں۔

ترکی کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں سرحد پر پناہ گزینوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے اور ہر روز تقریباً ایک ہزار ترکی شہری ملک واپس آ رہے ہیں۔ تاہم ترکی کے وزیرِاعظم طیب اردگان نے سرحد پر پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

واضح رہے کہ یہ خبر ایک ایسے وقت پر آئی ہے جب شام میں بغاوت کو ایک سال ہونے کو ہے اور اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو ان کی جانب سے کیے گئے امن مذاکرات کے بارے میں آگاہ کرنے والے ہیں۔

اسی بارے میں