’اوباما اور پیٹریئس کو مروانے کا منصوبہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اسامہ بن لادن کے خیال میں نائب صدر جو بائیڈن اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسامہ بن لادن امریکی صدر بارک اوباما کو قتل کرانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اسامہ بن لادن کا خیال تھا کہ امریکی صدر کا قتل امریکہ کو شدید مشکلات میں ڈال دے گا کیونکہ ان کے نائب صدر بائیڈن اقتدار سنبھالنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان منصوبوں کی تفصیلات ان مسودات میں پائی گئی ہیں جو کہ گزشتہ سال دو مئی کو کیے گئے ایبٹ آباد آپریشن میں القاعدہ کے سربراہ کے گھر سے لے جائے گئے تھے۔

ان مسودوں کے مطابق اسامہ بن لادن نے اپنی تنظیم کو ایک ایسے حملے کی تیاری کرنے کے لیے کہا تھا جس میں امریکی صدر اوباما کے جہاز ’ائر فورس ون‘ کو نشانہ بنایا جائے۔ مسودوں کے مطابق جنرل ڈیوڈ پٹریئس کو بھی اہم نشانہ قرار دیا گیا ہے۔

اسامہ بن لادن کے مکان سے لے جائے گئے مسودوں کا امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے تجزیہ کیا ہے۔

امریکہ میں یہ توقعات بڑھتی جا رہی ہیں کہ حکومت ان تمام مسودوں کو شائع کرے گی جو اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کے دوران ان کی رہائشگاہ سے امریکہ لے جائے گئے ہیں۔

دو مئی کے آپریشن میں لیپ ٹاپ کمپیوٹرز اور ہارڈ ڈرائیوز بھی لے جائے گئے تھے۔

اڑتالیس صفحوں پر مشتمل ایک نوٹ میں اسامہ بن لادن نے ان حملوں کی تیاری کے لیے الیاس کشمیری کو نامزد کیا تھا۔ الیاس کشمیری بن لادن کی ہلاکت کے ایک مہینے بعد ایک امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

مسودات کے مطابق اسامہ بن لادن القاعدہ کے اراکین کو پاکستان کے قبائلی علاقوں سے دور رہنے کے لیے کہہ رہے تھے، ان کے خیال میں ان علاقوں میں ڈرون حملوں اور اس سے منسلک شہری ہلاکتوں کی وجہ سے القاعدہ کی ساخت کو نقصان پہنچ رہا تھا۔

اسامہ بن لادن کے مسودات سے اس بات کا بھی انکشاف ہوتا ہے کہ اسی وجہ سے وہ القاعدہ کا نام تبدیل کرنے پر غور کر رہے تھے۔ ان کے خیال میں چونکہ امریکی حکام نے مسلمانوں کے جذبات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، الفاظ ’وار آن ٹیرر‘ کا استعمال کم کر دیا تھا۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق انٹیلیجنس حکام کا رائے ہے کہ القاعدہ میں اس نوعیت کے حملے کرانے کی صلاحیت نہیں تھی اور نہ ہی اس طرح کے حملوں کی تیاری کے کوئی شواہد ہیں۔

اوباما انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن اپنا زیادہ وقت غم و افسوس کی حالت میں گزارتے تھے اور ان کی رہنمائی کو اکثر نظر انداز کیا جاتا تھا۔

اسی بارے میں