ہتھیاروں کی خریداری: ’بھارت پہلے، پاکستان تیسرے نمبر پر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر نظر رکھنے والے تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق ہتھیاروں کی خریداری میں بھارت پہلے اور پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کشیدگی اور لڑائیوں کے دوران ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے بارے میں ہونے والی بحث کا دنیا بھر میں کوئی خاص اثر نہیں ہوا ہے۔

بھارت نے بھی گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے زیادہ ہتھیار خریدے ہیں۔ بھارت نے ہتھیاروں کی مجموعی فروخت کا دس فیصد خریدا ہے۔

بھارت کے بعد جنوبی کوریانے چھ فیصد، چین اور پاکستان نے پانچ پانچ فیصد اور سنگاپور نے چار فیصد ہتھیار خریدے ہیں۔

سٹاک ہوم کے تھنک ٹینک کے مطابق بھارت، چین، پاکستان، جنوبی کوریا اور سنگاپور نے مل کر ہتھیاروں کی مجموعی فروخت کا تیس فیصد خریدا ہے۔

’سنہ 2002 سے 2006 کے مقابلے میں 2007 سے 2011 کے درمیان بھارت نے بڑے ہتھیاروں کی خرید میں 38 فیصد اضافہ کیا ہے۔‘

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق بھارت نے سنہ 2007 اور 2011 کے درمیان روس اور فرانس سے جنگی جہاز خریدے۔

دوسری جانب پاکستان ہتھیاروں کی برآمدات میں تیسرے نمبر پر ہے۔ ’پاکستان نے چین اور امریکہ سے جی ایف 17 جنگی جہاز اور ایف سولہ طیارے خریدے۔‘

مشرق وسطیٰ میں جاری عرب انقلاب کے باوجود ان ممالک کو مسلسل ہتھیاروں کی سپلائی ہوتی رہی ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق عرب ممالک میں جاری عدم استحکام کی صورتحال میں بھی روس نے شام کو مسلسل میزائل، لڑاکا طیارے اور دوسرے ہتھیار برآمد کیے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے پچھلے سال مصر کو پینتالیس ٹینک فروخت کیے۔

تھنک ٹینک کے مطابق امریکہ نے مصر کو مزید سو ٹینک دینے کا وعدہ کیا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق چین جلد ہی ہتھیار برآمد کرنے والے دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ چین زیادہ تر ہتھیار پاکستان کو بیچتا ہے۔

اس ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق دوہزار سات سے دو ہزار گیارہ تک دنیا بھر میں ہتھیاروں کی برآمد میں چوبیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ میں ہتھیاروں کی فروخت میں پہلے نمبر پر ہے جس کے بعد روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے نمبر ہیں۔

شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدہ حالات کے باوجود عرب ممالک کو ہتھیاروں کی برآمد جا رہی۔

تھنک ٹینک کے مطابق ہتھیاروں کی خریداری کا بیرونی سیکورٹی سے براہ راست تعلق نہیں۔ کئی ملک بین الاقوامی سطح پر اپنا اثرو رسوخ قائم رکھنے کے لیے بھی ہتھیار خریدتے ہیں۔

اسی بارے میں