’غیرت زندگی کا اصول ہوتا ہے‘

Image caption برطانوی حکومت کو ملک میں غیرت کے نام پر خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات پر تشویش ہے۔

بی بی سی کے پروگرام پینوراما کے لیے کیے گئے ایک جائزے کے مطابق دو تہائی ایشیائی نسل کے برطانوی نوجوان غیرت کے اصول پر زندگی گذارنے سے متفق ہیں۔

پینوراما کے لیے یہ جائزہ کوم ریسرچ نامی ادارے نے کیا تھا اور اس میں ایشیائی نسل کے پانچ سو ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سے انٹرویو کیا گیا تھاجن کی عمر سولہ سے چونتیس برس کے درمیان تھی۔

سروے کیے گئے لوگوں میں اٹھارہ فیصد افراد یہ بھی محسوس کرتے تھے کہ بعض حالات میں اگر خواتین کا طرزعمل خاندان کی غیرت کو متاثر کرے تو یہ طرز عمل ایسی خواتین کو جسمانی سزا دینے کا جواز ہوسکتا ہے۔اس طرزعمل میں والد کی نافرمانی اور طے شدہ شادی کو قبول نہ کرنا بھی شامل ہیں۔

ایشیائی کی تعریف کے لیے جائزہ کرانے والے ادارے نے یہ سوال رکھے تھے کہ انٹرویو دینے والا مخلوط نسل کا ایشیائی ہے یا ہندوستانی، پاکستانی، بنگلہ دیشی یا پھر کسی اور نسل کا ایشیائی۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایشیائی خاندانوں کو غیرت کے اصول کے تحت برطانیہ میں زندگی بسر کرنی چاہیے یا نہیں، انہتر فیصد نے جواب اثبات میں دیا جبکہ جنس کے اعتبار سے یہ بات سامنے آئی کہ تین چوتھائی مرد غیرت کے اصول کے حق میں تھے جبکہ تریسٹھ فیصد نوجوان خواتین کا بھی یہی خیال تھا۔

لیکن اس سوال کے جواب میں کہ کیا غیرت کے نام پر کسی کے قتل کا کوئی بھی جواز ہے، صرف چھ فیصد مردوں اور ایک فیصد خواتین نے کہا کہ ہاں ایسا ممکن ہے۔

خواتین کے حقوق کے علمبردار گروہوں کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی روک تھام کی شدید ضرورت ہے۔

ایسے ہی ایک ادارے کی سربراہ، جسویندر سنگھیرا، جو چودہ برس کی عمر میں خود اپنی جبری شادی سے جان بچاکر بھاگی تھیں، ان کا کہنا ہے ایشیائی برادری کے اہم رہنماؤں کو غیرت کے نام پر قتل کی ایسی وارداتوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے لیکن بقول جسویندر سنگھ ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

یادرہے کہ ایرانی اور کرد خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ایک گروپ کی طرف پورے ملک کی پولیس فورس سے بھرائے گئے ایک سوالنامے کے مطابق روزانہ تقریباً آٹھ یا سالانہ دوہزار آٹھ سو سے زائد ایسے واقعات ہوتے ہیں جو غیرت سے جڑے جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ گروپ کے مطابق یہ اعدادوشمار بھی یوں کم ہیں کہ باون میں سے تیرہ پولیس اداروں نے تو سوالنامے کا جواب ہی نہیں دیا تھا۔