کیا ایران پر حملہ ناگزیر ہے

ایک ایرانی جوہری تنصیب تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

عالمی سفارتکاری کے میدان میں ان دنوں یہ سوال سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے کہ کیا ایران پر امریکی یا اسرائیلی حملے کو ٹالا جاسکتا ہے اور ایسے کسی حملے کہ ممکنہ نتائج کیا ہوں گے۔

دوہزار چار میں بھی ایران پر ممکنہ حملے کی بات بہت زیادہ گرم تھی لیکن اس وقت کے برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا نے اس موضوع کو خارج ازامکان قرار دے کر بحث ختم کردی تھی۔ بقول جیک سٹرا، عراق اور افغانستان پر حملے کے بعد تیسری جنگ کی بات خود اس وقت کی حکمران لیبر پارٹی میں آگ لگا دیتی۔

لیکن اب جب جیک سٹرا کے نزدیک بھی میں ایران کے خلاف مغرب کی فوجی کارروائی ممکن لگتی ہے، وہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ سختی سے ایسی کسی بھی کارروائی کے خلاف متنبہ کرتے ہیں کیونکہ جیک سٹرا کے خیال میں اس کے نتیجے میں بین الاقوامی تعلقات کی ایسی صف بندی ہوسکتی ہے جو ابھی تک نہیں دیکھی گئی۔

جیک سٹرا کے مطابق ایران کے معاملے پر عالمی برادری منقسم ہے اور ممکنہ طور پر یہ تقسیم امریکی اور برطانیہ کے درمیان بھی موجود ہے جبکہ اس کے مقابلے میں روس، چین، بھارت اور برازیل وغیرہ ہیں اور یورپی اتحاد کا موقف کہیں درمیان میں ہے۔

مختلف اطراف سے ملنے والے اشارے بتاتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف امریکہ یا اسرائیل یا یورپ کی مشترکہ فوجی کارروائی کا امکان اب ہمیشہ سے کہیں زیادہ ہے۔

اسرائیلی سیاسی اور فوجی قیادت سے انٹرویو کا ایک لمبا سلسہ حال ہی میں مکمل کرنے والے ایک اسرائیلی صحافی رونن برگمین کے مطابق امکان ہے کہ اسرائیل سال دوہزار بارہ کے دوران ایران پر حملہ کرے گا اور اسرائیلی فوج اس مقصد کے لیے بھرپور تیاری کر رہی ہے۔

رونن برگمین کے مطابق اسرائیل کو قم شہر کے نزدیک فوردو کی جوہری تنصیبات کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویش ہے کیونکہ اس کے خیال میں ایران نو ماہ میں ایسے مقام پر پہنچ جائے گا جہاں اس کی تنصیبات کو تباہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

ایران کے مطابق جوہری عدم پھیلاؤ کے سمجھوتے کے تحت اسے یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل ہے اور اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن چونکہ ایران نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے مطابق عدم پھیلاؤ کے احتیاطی اقدامات کی اتنی زیادہ خلاف ورزی کی ہے کہ اس سے اضافی اقدامات کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایک اور ہولوکاسٹ کے امکانات پر خاموش نہیں بیٹھ سکتا کیونکہ بقول اسرائیل، احمدی نژاد جیسے رہنماؤں کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی تشویش سمجھتا ہے لیکن اس کے باوجود جنگ کے بارے میں بے وقوفانہ باتیں نہیں کی جانی چاہئیں۔

لیکن امریکی محکم: دفاع میں ایران کے بارے میں ایک سابق سینئر مشیر میتھیو کرونگ کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا ہی جانا ہے تو وہ امریکہ کو کرنا چاہیے نہ کہ اسرائیل کو کیونکہ ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی اسرائیلی صلاحیت بہرحال محدود نوعیت کی ہے۔

میتھیو کرونگ کے مطابق امریکی حملے کے جواب میں ایرانی ردعمل کو سنبھال کر بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے کیونکہ ایرانیوں کو بھی معلوم ہے کہ اگر ان کا ردعمل بہت زیادہ شدید ہوا تو وہ بالکل تباہ بھی ہوسکتے ہیں۔

ایرانی بھی لگتا ہے کہ سفارتکاری جاری رکھتے ہوئے بھی جنگ کی تیاریاں کررہے ہیں اور اب امریکہ میں مقیم ایک سابق ایرانی جوہری مذاکرات کارحسین موساویان کے مطابق اگر امریکہ یا اسرائیل نے حملہ کیا تو ایران بھی خاموش نہیں رہے گا اور جواب دے گا۔

جواب کی ایک واضح صورت حزب اللہ کا استعمال ہے جس کے پاس اسرائیل کو ہدف بنانے کے لیے ہزارہا راکٹ موجود ہیں۔

حسین موساویان کے خیال میں ایران اس سے بہت آگے جائے گا اور اسرائیل سے براہ راست محاذ آرائی کرتے ہوئے ایران ان تمام ملکوں کو سزا دے گا جو ایران کے ساتھ جنگ کی مہم چلارہے ہیں۔ ان کے بقول وہ نہیں سمجھتے کہ ایسی صورت میں پوری دنیا میں امریکی مفادات اور اہلکار محفوظ رہ پائیں گے جبکہ ایران پرحملہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو جوابی کارروائی پر بھی اکسائے گا۔

اس تمام صورتحال میں جیک سٹرا کے مطابق ایک درمیانی راستہ بھی ممکن ہے اور ان کے خیال میں براہ راست حملے کے بجائے ایران کومحدود اور تنہا کرنے کی پالیسی اپنانی چاہیے۔

لیکن اگر ایران کا ہدف واقعی جوہری ہتھیار بنانا ہی ہے تو وہ مغرب سے مذاکرات کیوں کرے گا۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سیکیورٹی سٹڈیز میں تحقیق کرنے والے مارک فٹزپیٹرک کے مطابق ایران اپنے جوہری پروگرام پر کچھ پابندی قبول کرسکتا ہے مثلاً وہ جوہری ہتھیار تو نہیں بنائے گا لیکن اس کی صلاحیت ضرور برقرار رکھے گا۔

جیک سٹرا کے خیال میں بھی ایسا ممکن ہے اور دونوں فریق ایسے سمجھوتے پر متفق ہوسکتے ہیں کیونکہ اگرایران پر معاشی اور سفارتی دباؤ برقرار رکھا جائے توبغیر کسی جنگ کے یہ خود اس کے مفاد میں بھی ہے کہ وہ اپنی عالمی تنہائی ختم کرے۔ بقول جیک سٹرا ، انہیں یقین ہے کہ مستقبل کے ایران میں حکومت ، احمدی نژاد کے اقتدار سے مختلف بھی ہوسکتی ہے۔

فی الوقت تو واشنگٹن اور لندن دونوں جگہ سفارتکاری ہی ترجیح ہے لیکن جنگ سے متعلق باتوں میں بھی تیزی آتی جا رہی ہے۔

لیکن اسرائیلی صحافی رونن برگمین کے مطابق اسرائیل کے لیے محدود کرنے کا راستہ قطعی ناقابل قبول ہے کیونکہ وزیردفاع ایہود براک کے مطابق یہودی ریاست یہودیوں کے محفوظ مستقبل کو انتہائی غیرمعمولی سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔