شام: روزانہ دو گھنٹے جنگ بندی کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ a

روس نے بین الاقوامی امدادی تنظیم آئی سی آر سی کے ہمراہ شام سے انسانی ہمدری کی بنیاد پر روزانہ دو گھنٹے کی جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

روس کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے شائع ہونے والے ایک بیان میں شام میں جنگ بندی کے مخالف تمام مسلح گرہوں سے جنگ بندی پر فوری عمل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ روس نے شام پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی کی قرار داد کو دو بار ویٹو کیا تھا۔

روس کی جانب سے یہ اپیل شام کے دارالحکومت دمشق میں ہونے والے نئی جھڑپوں کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی امدادی تنظیم آئی سی آر سی کے سربراہ جیکب کیلن برگر روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لووروف کے ساتھ شام میں جنگ بندی کے انتظامات پر بات چیت کے لیے ماسکو پہنچے ہیں۔

مسٹر کیلن برگر کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی کی اپیل بہت اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بہت ضروری ہے کہ شام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کو جلد سے جلد ممکن بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ شام کے شہر حمص میں فوج کی جانب سے کی جانے والی بمباری دیگر شہروں کے لیے کسی طرح بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

آئی سی آر سی کا کہنا ہے کہ شام میں روزانہ کی جنگ بندی بہت ضروری ہے تاکہ شام کے متاثرہ ترین علاقوں سے زخمیوں کو نکالنے کے علاوہ انہیں خوراک اور طبی امداد پہنچائی جا سکے۔

روس شام کا اہم اتحادی رہا ہے اور اس نے چین کے ساتھ ملکر اقوامِ متحدہ کی جانب سے شام کے صدر بشار الاسد کے اقدامات کو مذمت کرنے کی قرار داد مخالفت کی ہے۔

ماسکو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ آئی سی آر سی کے مطالبے کی حمایت کرتا ہے اور شام سے استدعا کرتا ہے کہ وہ آئی سی آر سی کو شام میں قید کیے جانے والے تمام افراد تک رسائی دے۔

ماسکو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ڈینئل سینڈ فورڈ کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے کیا جانے والا اعلان روسی عوام کے دباؤ پر ہو سکتا ہے کیونکہ ماسکو شام کے فریقین پر گزشتہ مہینوں سے جنگ بندی کی اپیل کر رہا ہے۔

دوسری جانب آئی سی آر سی کی ترجمان وکٹوریہ زوٹیکوا نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ان مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک آٹھ ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دریں اثناء دمشق کے مضافات میں ایک بار پھر تشدد کے واقعات شروع ہو گئے ہیں۔

ان علاقوں میں چند ہفتے قبل ہی سکیورٹی فورسز نے شدید لڑائی کے بعد دوبارہ قبضہ حاصل کیا تھا۔

اس کے علاوہ شام کے مختلف علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق منحرف فوجیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ہیں۔

دوسری جانب شام کے صدر بشارالاسد کا کہنا ہے کہ شامی سکیورٹی فورسز ان مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں جو ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں