امریکی فوجی کو’واقعے سے متعلق بہت کم یاد ہے‘

سارجنٹ بیلز تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی فوجی کی اہلیہ نے مقتولین کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے

سولہ افغان شہریوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار امریکی فوجی کے وکیل نے کہا ہے کہ ملزم کو اس واقعے سے متعلق بہت کم یاد ہے۔

وکیل جان ہینری براؤن نے یہ بات امریکی فوج کے ایک جیل میں سارجنٹ رابرٹ بیلز سے پہلی بار ملنے کے بعد بتائی۔

واضح رہے کہ سولہ افغان شہریوں کے قتل کے باعث امریکہ اور افغانستان کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں اور نیٹو کے افغانستان سے جلد انخلاء کی باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

اڑتیس سالہ سارجنٹ بیلز کو کویت کے راستے امریکی ریاست کینساس لایا گیا ہے جہاں انہیں لیون ورتھ میں واقع فوجی نظر بندی کے کیمپ میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان پر فردِ جرم رواں ہفتے کے دوران عائد کر دی جائے گی۔

اگرچہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ اس قتلِ عام میں ایک سے زیادہ امریکی فوجی ملوث تھے لیکن الزام صرف سارجنٹ رابرٹ بیلز پر ہی عائد کیا گیا ہے۔

تاہم ان کی اہلیہ کیریلین نے ایک بیان میں مقتولین اور ان کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جو ہوا ہے وہ اس انسان کا کام نہیں ہے جسے وہ جانتی ہیں اور پسند کرتی ہیں۔

ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے نیٹو سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے دیہات اور دیگر دیہی علاقوں سے نکل جائیں اور ملکی سکیورٹی کی ذمہ داری افغان فوجیوں کو سنبھالنے دیں تاکہ شہریوں کی ہلاکتوں پر قابو پایا جا سکے۔

اسی بارے میں