فرانس: محاصرہ ختم، مطلوب شخص ’ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ video

فرانس کے وزیر داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ فرانس کے شہر تولوز کے ایک رہائشی علاقے میں چھپے ہوئے شخص محمد مراح پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایک دن کے محاصرے کے بعد پولیس اس فلیٹ میں گھس گئی جس میں سات افراد کی ہلاکت میں مطلوب شخص چھپے ہوئے تھے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

فرانسیسی وزیر داخلہ نے بتایا کہ پولیس نے پاکستانی معیاری وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجےگرینیڈ پھینکے اور کھڑکیوں اور دروازوں سے فلیٹ میں داخل ہو گئے۔

فلیٹ میں داخل ہو کر پولیس کو مراح نہیں ملا جس پر وہ غسل خانے کی جانب بڑھے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ محمد مراح نے غسل خانے سے نکل کر پولیس پر حملہ کیا اور فائرنگ کرتے ہوئے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی۔

فرانس کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ محمد مراح زمین پر مردہ حالت میں پائے گئے۔

اس سے قبل فرانس کے وزیرِ داخلہ نے بتایا تھا کہ ’مسلح شخص محمد مراح نے کہا تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں میں ہتھیار لیے ہوئے مرنا چاہتا ہے لیکن حکام کی کوشش ہے کہ وہ اسے زندہ گرفتار کریں۔‘

محمد مراح نامی اس مشتبہ شدت پسند نے قبول کیا ہے کہ اس نے یہودی بچوں ، ایک یہودی راہب اور تین فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔

رات کے وقت پولیس کے مشتبہ شخص کے اپارٹمنٹ پر دھماکے کیے تاکہ وہ دباؤ میں آکر گرفتاری پیش کر دے۔ تاہم ان کے جواب میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اس سے قبل پولیس مشتبہ حملہ آور محمد مراح سے مذاکرات کرتی رہی تاکہ اسے خود کو قانون کے حوالے کرنے پر راضی کیا جا سکے۔

اس سے پہلے تولوز کے ڈپٹی میئر جین پیری نے مقامی میڈیا کو بتایا تھا کہ مشتبہ شخص کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ختم ہونے کے بعد کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

دریں اثناء فرانس کی وزارتِ داخلہ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ کارروائی الجیریائی نژاد فرانسیسی شہری محمد مراح پر دباؤ بڑھانے کے لیے کی گئی۔

فرانس کے شہر تولوز میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کرسچیان فریسر کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے بعد شہر میں خوف پھیل گیا۔

پولیس نے مراح کے فلیٹ کو دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اس وقت گھیرے میں لے لیا جب انہوں نے بدھ کی صبح اس کے فلیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کے پاس ایک کلاشنکوف، منی مشین پستول، کئی ہینڈگنز کے علاوہ گرنیڈز بھی ہیں۔

حکام کے مطابق بدھ کی شام کو عمارت کے ارد گرد کی بتیاں بند کر دی گئیں اور پانچ منزلہ عمارت کے فلیٹس کو بھی خالی کروا لیا گیا۔

فرانسیسی پولیس نے مشتبہ شخص کے بھائی اور کئی رشتہ داروں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس نے مشتبہ شخص کی ماں کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر کوئی کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کا بیٹا اب ان کے زیرِ اثر نہیں ہے۔

فرانس کے انسدادِ دہشت گردی شعبے کے سربراہ فرانکویس مولن نے بدھ کو کہا تھا کہ محمد مراح اور لوگوں کو بھی ہلاک کرنا چاہتا تھا۔

مسٹر مولن کے مطابق مشتبہ شخص کو اپنے عمل پر کوئی پشیمانی نہیں اور وہ مزید افراد کو مار کر فرانس کو جھکانا چاہتا ہے۔

دوسری جانب الجیریائی نژاد فرانسیسی شہری محمد مراح کا کہنا ہے کہ اس نے ’فلسطینی بچوں کا بدلہ‘ لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور نے کئی بار پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ جنگجو ہے اور اس کا تعلق القاعدہ سے ہے۔

افغان حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد مراح کو سنہ دو ہزار سات میں افغان صوبے قندھار میں بم نصب کرنے پر جیل بھیجا تھا تاہم وہ سنہ دو ہزار آٹھ میں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔

دوسرے افغان ذرائع نے اس دعوے پر شک کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ قندھار جیل میں قید شخص اسی نام کا کوئی دوسرا شخص ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ منگل کو فرانس کے شہر تولوز میں ایک مسلح حملہ آور نے ایک یہودی سکول میں فائرنگ کر کے ایک ٹیچر اور تین بچوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں