فرانس: مشتبہ ملزم اور لوگوں کو بھی مارنا چاہتا تھا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانسیسی انٹیلجنس ایجنسیاں کئی برسوں سے محمد میراہ کا پچھا کر رہی تھیں:وزیر داخلہ کلوڈ گیاں

فرانس میں استغاثہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تولوز نامی شہر میں سات افراد کی ہلاکت میں ملوث مشتبہ شخص کئی اور لوگوں کو بھی ہلاک کرنا چاہتا تھا۔

فرانس کے شہر تولوز میں پولیس نے اس مشتبہ حملہ آور کے فلیٹ کو گھیرے میں لے رکھا ہے جو جنوبی فرانس میں سات افراد کی ہلاکت میں مطلوب ہے۔

اس مشتبہ حملہ آور کا نام محمد مراح بتایا جا رہا ہے اور اس نے اپنا تعلق القاعدہ سے بتایا ہے۔

الجیریائی نژاد فرانسیسی شہری محمد مراح کا کہنا ہے کہ اس نے ’فلسطینی بچوں کا بدلہ‘ لیا ہے۔

پولیس مشتبہ حملہ آور سے مذاکرات کر رہی ہے، حملہ آور کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی مسلح ہے اور ہو سکتا ہے کہ دوپہر کے قریب خود کو پولیس کے حوالے کر دوں۔

فرانسیسی وزیر داخلہ کلوڈ گیاں نے بتایا ہے کہ حملہ آور نے کھڑکی سے ایک کولٹ 45 بندوق نیچے پھینکی ہے اور ان کے خیال میں اس کے پاس مزید ہتھیار ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کے پاس سے ایک کلاشنکوف، منی مشین پستول کے علاوہ کئی ہینڈگن ہیں۔

اس سے پہلے مشتبہ شخص نے موبائل فون کے بدلے ایک مشین گن کھڑکی سے باہر پھینک دی تھی۔ پولیس کو مشتبہ شخص کے فلیٹ کے نزدیک کھڑی ایک کار سے بھی اسلحہ ملا ہے۔

فرانس کے وزیر داخلہ کلوڈ گیاں نے کہا ہے کہ فرانسیسی انٹیلجنس ایجنسیاں کئی برسوں سے محمد مراح کا پچھا کر رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملہ آور کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی بچوں کا بدلہ لینا چاہتا تھا

فرانسیسی پولیس نے مشتبہ شخص کے بھائی اور کئی رشتہ داروں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے مشتبہ شخص کی ماں کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر کوئی کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کا بیٹا اب ان کے زیرِ اثر نہیں ہے۔

فرانسیسی صدر نکولس سارکوزی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دہشتگردی کبھی فرانسیسی معاشرے میں دراڑ نہیں ڈال سکے گی۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور نے کئی بار پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا ہے۔’اس کا دعویٰ ہے کہ وہ جنگجو ہے اور اس کا تعلق القاعدہ سے ہے۔‘

وزیر داخلہ نے کہا: ’وہ فلسطینی بچوں اور دوسرے ملکوں میں فرانسیسی فوج کی کارروائیوں کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔‘

وزیرِ داخلہ کے بقول’ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم حملہ آور کو اس طرح سے پکڑنا چاہتے ہیں کہ اُسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔‘

پولیس جب اس شخص کو پکڑنے کے لیے اس کے دروازے پر پہنچی تو اس نے پولیس پر فائرنگ کی۔ مشتبہ شخص کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص گھیرے میں لی جانے والی پانچ منزلہ عمارت کے گراونڈ فلور یا پہلی منزل پر موجود ہے۔

فرانسیسی استغاثہ کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص کے ممکنہ ساتھیوں کوگرفتار کرنے کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ منگل کو فرانس کے شہر تولوز میں ایک مسلح حملہ آور نے ایک یہودی سکول میں فائرنگ کر کے ایک ٹیچر اور تین بچوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

فرانسیسی پولیس کا کہنا تھا کہ اس واقعے کا تعلق اسی علاقے میں گذشتہ ہفتے ہونے والے دو حملوں سے ہو سکتا ہے، جس میں شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے تین فوجی مارے گئے تھے۔

واقعے کی تفتیش کے بارے میں معلومات رکھنے والے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں حملوں میں ایک ہی گن اور سکوٹر استعمال کی گئی۔ پولیس اس واقعے کی تفتیش دو ممکنہ بنیادوں پر کر رہی ہے کہ یا تو اس کے پیچھے مسلمان شدت پسندوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے یا پھر انتہائی دائیں بازو کے لوگوں کا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مرنے والے تمام افراد اسرائیل اور فرانس کی دوہری شہریت رکھتے تھے۔

دریں اثنا تولوز میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی شہریوں کی آخری رسومات اسرائیل میں ادا کی جا رہی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی شہر یروشلم میں ان افراد کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد کی آمد متوقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں