مصر: روشن خیال اراکین پارلیمان کا واک آوٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مصر میں روشن خیال اراکین پارلیمان اس پینل کی تشکیل سازی کے عمل سے احتجاجاً الگ ہو گئے ہیں جس نے ملک کا نیا آئین مرتب کرنا ہے۔

روشن خیال ممبر پارلیمان نے پینل کی تشکیل کے حوالے سے ہونے والی ووٹنگ سے واک آؤٹ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان میں اکثریتی اسلام پسند جماعتیں آئین مرتب کرنے کے عمل پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتی ہیں۔

ملک میں نیا آئین تشکیل دینے کے حوالے سے سو رکنی پینل میں اراکین پارلیمان کی تعداد پچاس ہے۔

اس پینل نے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے بعد ملک کا ایک نیا آئین بنانا ہے۔

پینل آئین کا مسودہ تیار کرے گا جس کے بعد اس پر رائے شماری کرائی جائے گی۔

نئے آئین میں صدر اور پارلیمان میں طاقت کا توازن قائم کیا جائے گا، اس سے پہلے ملک کے صدر ہی سپریم اتھارٹی ہوتے تھے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پینل کا کام ملک کے مستقبل کے حوالے سے سب سے اہم ہے، آئین کے مدد سے ملک کی سمت کا تعین کیا جائے گا اور اس سے ملک کی آئندہ آنے والی دہائیوں کا اندازہ ہو سکے گا۔

نامہ نگار کے مطابق آئین کی تیاری میں سب سے پہلے یہ طے کیا جانا ہے کہ اس میں اسلامی یا شرعی قوانین سے کس حد تک رہنمائی لی جائے۔

روشن خیال حقلوں کو ڈرہے کہ اسلام پسند جماعتیں اقلیتوں کے خدشات کو خاطر میں نہیں لائیں گی۔

جنوری میں مصر میں تین مرحلوں میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق اسلام پسند جماعتوں کو ان انتخابات میں بڑے فرق سے فتح ملی۔

اخوان المسلمون نے الاٹ کی گئی جماعتی نشستوں میں سے اڑتیس فیصد پر کامیابی حاصل کی جو کہ مجموعی طور پر نشستوں کا پچاس فیصد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ x

سلفی خیالات کی حامی اسلامی جماعت النور پارٹی ان انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہی ہے اور اس نے پچیس فیصد نشستیں جیتی ہیں۔

اس طرح مصر کے ایوان میں اسلام پسند جماعتوں نے تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے۔

مصر میں پارلیمانی انتخابات دو ماہ کے عرصے کے دوران منعقد ہوئے تھے اور یہ گزشتہ سال فروری میں سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار سے علیحدگی کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات تھے۔

مصر میں اخوان المسلمون پانچ عشروں سے کالعدم جماعت تھی لیکن حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ ایک اہم سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔

اسی بارے میں