امریکی صدر اوباما جنوبی کوریا کے دورے پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی صدر براک اوباما ایک ایسے وقت جنوبی کوریا کے دورے پر پہنچے ہیں جب شمالی کوریا کی جانب سے راکٹ کے تجربے کے اعلان پر خطے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

امریکی صدر براک اوباما اپنے تین روزہ دورے کے دوران شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان ڈی ملٹرائزڈ زون کا دورہ بھی کریں گے۔

صدر اوباما پیر سے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں شروع ہونے والی کانفرس میں شریک ہونگے۔ اس کانفرس میں پچاس ممالک شامل ہونگے۔

سیول میں بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ویلیمسن کا کہنا ہے کہ کانفرس میں توجہ دہشت گردوں یا شدت پسند تنظیموں کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر مرکوز ہو گی۔

نامہ نگار کے مطابق کانفرس میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بات نہیں ہو گی لیکن امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ صدر براک اوباما شمالی کوریا اور ایران کے جوہری پروگرام پر اپنے روسی اور چینی ہم منصب سے بات چیت کریں گے۔

امریکہ نے شمالی کوریا کوریا کی جانب سے راکٹ کا تجربہ کرنے کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس سے پہلے شمالی کوریا کی جانب سے آئندہ ماہ طویل فاصلے تک مارے کرنے والے راکٹ کا تجربہ کیے جانے کے اعلان کے جواب میں جاپان نے میزائل کے دفاعی نظام کی تیاری کا حکم دیا ہے۔

شمالی کوریا کا اپنے راکٹ کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ خلاء میں سیٹیلائٹ نظام نصب کرنے کا کام کرے گا لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یقین ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے لانچ کیا جانے والے یہ راکٹ ایک میزائل ٹیسٹ سے پہلے کی جانے والی مشق ہے۔

اس اعلان کے بعد شمالی کوریا پر اس بات کے لیے تنقید کی گئی کہ اس راکٹ لانچ سے وہ اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔

شمالی کوریا کی اس راکٹ لانچ کی مذمت میں جاپانی پارلیمان میں بھی ایک قرارداد پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا، چین، اور امریکہ نے مجوزہ راکٹ لانچ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے اس راکٹ لانچ ’اشعال انگیز‘ قدم قرار دیا تھا۔ اقوام کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے کہا ہے کہ اس راکٹ لانچ سے شمالی کوریا کو ملنے والی امداد متاثر ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد میزائل کے تجربات کو منسوخ کردیا تھا۔ معاہدے کے مطابق شمالی کوریا کو دو لاکھ چالیس ہزار ٹن خوراک کی امداد دی جائے گی۔

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر شمالی کوریا اس لانگ رینج میزائل کا تجربہ کرتا ہے تو امریکہ کے لیے شمالی کوریا کو ماضی میں ہوئے معاہدے کے تحت خوراک کی امداد دینا مشکل ہوگا۔

اسی بارے میں