صومالی قزاقوں کے زمینی ٹھکانوں پر حملے کی منظوری

تصویر کے کاپی رائٹ AP

یورپی یونین نے صومالی بحری قزاقوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کے لئے نئی حکمت عملی کے تحت سمندر کے ساتھ ساتھ قزاقوں کے زمینی ٹھکانوں پر بھی حملے کی منظوری دے دی ہے۔

یورپی یونین میں شامل ممالک کے وزاراء خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یورپی فوج کے جنگی جہاز قزاقوں کی کشتیوں اور ساحلوں پر موجود ان کے تیل کے ذخیروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

یونین نے بحری قزاقوں کے خلاف جاری مہم کو دو سال کے لئے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے یعنی مہم اب دسمبر دو ہزار چودہ تک جاری رہے گی۔

بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق یہ بحری قزاقی کو روکنے کی مہم میں یہ ایک اہم اقدام ہے تاہم اس سے لڑائی میں اضافہ ہونے کا خطرہ بھی ہے۔

یورپی یونین کی بحری فوج کے دس جہاز قرنِ افریقہ میں گشت پر معمور ہیں۔

یہ جہاز سمندری راستوں کی نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے میں بھیجے جانے والی انسانی امداد کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

سپین کے وزیر خارجہ جوس مینيل گارسيا نے نامہ نگاروں سے کہا ہے، ’یورپی یونین کی منصوبہ بندی ہے کہ جہازوں پر سمندری قزاقوں کے حملوں کی صورت میں ان کے بری ٹھکانوں پر کارروائی کی اجازت دی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ شہریوں کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لئے پوری احتیاط برتی جائے گی۔

یورپی یونین فوج کے کمانڈر ریئر ایڈمرل ڈكن پٹس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کی فوج اپنی مہم میں کامیاب رہی ہے۔

’اگر آپ گزشتہ سال پر نظر ڈالیں تو تیس جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور سات سو افراد یرغمال بنائے گئے تھے۔ اب یہ تعداد آٹھ جہاز اور دو سو یرغمالیوں پر پہنچ گئی ہے۔‘

یورپی یونین سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ صومالیہ کی موجودہ حکومت اور دوسری صومالی اداروں سے مدد حاصل کرے گا۔

فروری میں لندن میں منعقد ایک کانفرنس میں بحری قزاقوں اور دہشت گردی کے خلاف مہم کو تیز کرنے اور صومالیہ میں سیاسی استحکام بحال کرنے کے لئے مدد تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

بدھ کو سمندری قزاقوں نے ایک برطانوی خاتون کو چھ ماہ تک یرغمال بنانے کے بعد رہا کیا۔

ٹائمز اخبار نے دعوٰی کیا ہے کہ خاتون کے خاندان نے لٹیروں کو آٹھ لاکھ پونڈ تاوان ادا کیا ہے۔ اخبار کے مطابق تاوان کی رقم کو طیارے سے نیچے پھینکا گیا۔

اسی بارے میں