امریکہ کی دفاعی معلومات کو جاسوسوں سے خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کو تسلیم کر لیا جانا چاہیے کہ جاسوسوں کو دفاعی معلومات پہنچنے سے روکنا ممکن نہیں ہے۔

امریکی سیاستدانوں کو بتایا گیا ہے کہ اب یہ سمجھ لیا جانا چاہیے کہ جاسوس امریکہ کے کمپیوٹروں پر موجود دفاعی معلومات تک پہنچ چکے ہیں۔

سینیٹ کے لیے امریکی مسلح افواج کی سب کمیٹی میں بیان دینے والے سکیورٹی ماہرین نے کہا ہے کہ یہ رسائی ممکنہ طور پر اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اسے روکنے کی کوششیں ترک کر دی جانی چاہییں اور ان رسائیوں پر قابو پانے کی بجائے دفاعی کوششیں معلومات کو محفوظ کرنے کے لیے کی جانی چاہیں۔

ان ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اب ان قوموں کے خلاف جوابی اقدام کے طریقوں پر غور کرنا چاہیے جنہوں نے اس کے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی ہے۔

امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی اور گورنمنٹ لیب کے ماہرین نے ایک کھلے اجلاس میں کہا ہے کہ محکمۂ دفاع کے کمپیوٹروں کے نیٹ ورک کے تحفظ کے لیے اب تک جو طریقے اختیار کیے جاتے تھے ان انہیں تبدیل کرنا ہو گا۔

سندیا نیشنل لیبارٹریز میں انفارمیشن سسٹم انالیسیس سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر جیمس پیری نہ کہا کہ ’ہمارا انداز فکر غلط ہے، میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ انداز اختیار کرنا ہو گا کہ دشمن ہمارے نیٹ ورک میں موجود ہے‘۔

اس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم فائر والز اور گیٹ ویز کو مستحکم کرنے پر کم وقت صرف کریں گے اور زیادہ وقت اس بات کو دیں گے کہ ہماری معلومات محفوظ ہیں۔

ڈیفنس ایڈوانس ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر کیگھام گیبرئیل نے امریکی محکمۂ دفاع کی سائبر سیکیورٹی کی جاری کوششوں کو ’سمندر کے وسط میں جا کر پانی بیچنے‘ کی کوششوں کے مترادف قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سب کوششوں کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ وزارتِ دفاع کو اپنے ہی نیٹ ورک کو بچانے کی کوششوں کے بوجھ سے ڈوبنے میں جو وقت لگے گا اس میں کچھ اضافہ ہو جائے گا۔ وزارتِ دفاع سات ملین ڈیوائیسِز پر مشتمل پندرہ ہزار نیٹ ورکس کی نگرانی کرتی ہے۔

ڈاکٹر گیبرئیل نے مزید کہا کہ ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم غلط کام کر رہے ہیں، فطرتاً ہم یہی کرتے ہیں کہ دفاع کی کوشش کرتے ہیں‘۔

این ایس اے میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کےڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل ورتھیمر نے کہا کہ امریکی فوجی اپنے دفاع کے لیے جو طریقے اختیار کرتی ہے اسے اس کا نئی افرادی قوت کی بھرتی کا طریقہ ہی کم زور بنا دیاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کم تنخواہوں، ترقیوں میں تاخیر اور تنخواہوں کے انجماد کی موجودگی میں حکومت کے لیے انتہائی مشکل ہے کہ اسے با صلاحیت کمپیوٹر سکیورٹی سٹاف دستیاب ہو سکے۔

اس کھلے اجلاس کے بعد ایک بند اجلاس ہوا جس میں اُن ملکوں کے خلاف جوابی اقدام کے طریقوں پر غور کیا گیا جنہوں نے امریکہ کی دفاعی معلومات تک پہنچنے کی کوششیں کی ہیں۔

اسی بارے میں