شمالی کوریا کے مسئلے پر امریکہ اور چین متفق

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے چینی ہم منسب ہو جنتاؤ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو باز رکھنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔

انہوں نے یہ بات جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں جوہری تحفظ کی دوسری سربراہ کانفرس کے دوران چینی صدر سے ملاقات میں کہی۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق چینی صدر جنتاؤ کے بیانات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری پرورگرام کے مسئلے کو چین سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ تاہم اس ضمن میں صدر جنتاؤ نے شمالی کوریا کے رہنماؤں کو اپنے تحفظات سے آگاہ بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا آئندہ ماہ خلا میں ایک مسنوعی سیارہ چھوڑ رہا ہے جس کے بارے میں مغربی دنیا کہتی ہے کہ یہ دور تک مار کرنے والے مزائل تجربے کے لیے ایک جواز ہے۔

اس سے قبل صدر اوباما نے جنوبی کوریا کے صدر لیو میونگ باک کے ساتھ مذاکرات کے بعد اپنے خطاب میں کہا تھا کہ شمالی کوریا، راکٹ کے تجربے کی ’دھمکیاں دینے اور اکسانے‘ سے کچھ حاصل نہیں کرے گا۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر سیول اور امریکہ متحد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر شمالی کوریا امن کا راستہ اختیار کرتا ہے تو عالمی برادری اس کے شہریوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے آئندہ ماہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ کا تجربہ کیے جانے کے اعلان کے جواب میں جاپان نے میزائل کے دفاعی نظام کی تیاری کا حکم دیا ہے۔

راکٹ کے بارے میں شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ یہ خلا میں سیٹلائٹ نظام نصب کرنے کا کام کرے گا لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یقین ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے لانچ کیا جانے والے یہ راکٹ ایک میزائل ٹیسٹ سے پہلے کی جانے والی مشق ہے۔

اس اعلان کے بعد شمالی کوریا پر اس بات کے لیے تنقید کی گئی کہ راکٹ لانچ کر کے اس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کی ہے۔

شمالی کوریا کے راکٹ لانچ کرنے کی مذمت میں جاپانی پارلیمان میں بھی ایک قرارداد پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا، چین، اور امریکہ نے مجوزہ راکٹ لانچ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں