جاپان میں اب صرف ایک نیوکلیئر ری ایکٹر

جاپان جوہری پلانٹ
Image caption جاپان میں اب صرف ایک ہی جوہری پلانٹ کام کر رہا ہے۔

فوکو شیما جوہری پلانٹ کے حادثے کے بعد جاپان نے اپنی جوہری تنصیبات میں سے مزید ایک جوہری پلانٹ کو بند کر دیا ہے۔

اس جوہری پلانٹ کے بند کیے جانے کے بعد جاپان جوہری توانائی کو پوری طرح سے روک دینے کے قریب ہے۔

جاپان کے کل چون جوہری پلانٹوں میں سے اب صرف ایک ہی پلانٹ کام کر رہا ہے اور اسے بھی مئی میں بند کیا جانا ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ حفاظتی خطرات کے پیش نظر معمول کے رکھ رکھاؤ کے لیے بند کیے جانے والے جوہری ری ایکٹروں کو پھر سے شروع نہیں کیا جانا چاہیے۔

گذشتہ سال مارچ میں آنے والی سونامی کے سبب فوکو شیما جوہری پلانٹ میں رساؤ شروع ہو گیا تھا اور تابکاری سے حفاظت کے لیے لوگوں کو علاقہ سے نکالنا پڑا تھا۔

نی ای گاتا میں قائم کاشی کوازی-کیریوا پاور سٹیشن کی یونٹ- 6 کو ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی نے اپنی نگرانی میں لے لیا ہے۔ اس کے بعد ملک میں اب صرف ایک ہی جوہری ری ایکٹر کام کر رہا ہے جو کہ ہوکائیڈو جزیرہ پر ہے۔

ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ ان بند نیوکلیئر پلانٹوں کو از سر نو شروع کیا جائے گا یا نہیں۔

فوکوشیما کی تباہی سے قبل جاپان کی ایک تہائی بجلی ان جوہری پلانٹوں سے ہی حاصل کی جاتی تھی۔

لیکن زلزلہ اور سونامی کے سبب فوکوشیما کے چھ ری ایکٹروں میں سے چار کے کولنگ نظام تباہ ہوجانے کی وجہ سے بند ہوگئے۔

حکومت ملک میں پھیلی جوہری تنصیبات کے پاس زلزلوں کی قوت برداشت کی جانچ کر رہی ہے تاکہ اس کے گرد و نواح میں بسنے والے لوگوں کو یقین دلایا جا سکے کہ یہ تنصیبات زبردست زلزلوں کو بھی برداشت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

لیکن فوکوشیما حادثے کے بعد سے مقامی آبادی ان جوہری تنصیبات کو دوبارہ شروع کرنے کے خلاف ہیں جنہیں معمول کی مینٹیننس کے لیے ہر تیرہ مہینوں بعد بند کیا جاتا ہے۔

دریں اثناء جاپان نے فضلاتی ایندھن کی درآمدات میں اضافہ کر دیا ہے اور بجلی کمپنیوں نے پرانے بجلی پلانٹوں کو پھر سے کام میں لانے پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رونالڈ برک کا کہنا ہے کہ ان سب کوششوں کے باوجود جاپان میں گرمیوں میں بجلی کی فراہمی میں کمی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں