شام کے اعلان پر مغربی طاقتوں کے شبہات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مغربی طاقتوں نے شام کی حکومت کی طرف سے کوفی عنان کے امن منصوبے کو قبول کرنے کے اعلان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے منصوبے میں مطالبات کیے گئے ہیں کہ صدر بشار الاسد کی حکومت، فوج کو آباد علاقوں سے فوری طور پر واپس بلائے، سیاسی اصلاحات پر عمل درآمد کرے اور اقتدار کی تبدیلی کے لیے حزبِ اختلاف کے ساتھ مذاکرات شروع کرے۔

کوفی عنان کے منصوبے کو روس اور چین کی حمایت حاصل ہے جنہوں نے دو مرتبہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف پیش کی گئیں قراردادوں کو ویٹو کیا۔

خیال رہے کہ شام کی جانب سے امن منصوبے کو قبول کرنے کا اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب اقوام متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ ایک سال سے جاری حکومت مخالف تحریک میں نو ہزار کے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

منگل کو شام نے کوفی عنان کا منصوبہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا لیکن ردعمل میں امریکہ سمیت مغربی ممالک نے کہا ہے کہ صدر بشار الاسد کی نیک نیتی پر اس وقت یقین کیا جائے گا جب وہ کوفی عنان کے مجوزہ امن منصوبے پر عمل درآمد شروع کریں گے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہِلری کلنٹن نے کہا کہ’ بشارالاسد کی طرف سے زیادہ وعدوں اور ان پر کم عمل درآمد کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اس مرتبہ کیا گیا وعدہ فوری طور پر پورا کیا جانا چاہیے۔ ہم اسد کی خلوصِ نیت اور سنجیدگی کا اندازہ اُن کے فعل سے لگائیں گے نہ کہ قول سے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر وہ شام کی تاریخ کا سیاہ باب ہمیشہ کے لیے بند کرنے پر تیار ہیں تو انہیں فوراً گولیاں چلانے کا سلسلہ بند کرنا ہو گا اور آباد علاقوں سے فوج واپس بلانی ہو گی۔ ضرورت مند لوگوں تک امداد پہنچانے کے لیے بلا رکاوٹ رسائی، سیاسی قیدیوں کی رہائی، پرامن سیاسی سرگرمیوں کی اجازت، بین الاقوامی میڈیا کو بلا رکاوٹ کام کرنے کی سہولت اور شفاف سیاسی عمل کا آغاز کرنا ہو گا جو جمہوری تبدیلی کی طرف لے کر جائے۔‘

دوسری مغربی طاقتوں نے بھی اسی قسم کے شکوک و شہبات کا اظہار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کےمشترکہ ایلچی کوفی عنان کے ترجمان نے کہا ہے کہ شام نے قیام امن کے لیے چھ نکاتی منصوبے کو مان لیا ہے۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امن منصوبے کی کامیابی کا دارومدار اس پر عمل درآمد منحصر ہے۔

اس سے پہلے چین نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ کوفی عنان کے امن منصوبے کی کامیابی کے لیے تعاون کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روس کی حمایت سے بیجنگ میں کوفی عنان کا کام آسان ہو سکتا ہے۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں چینی وزیرِاعظم وین جیا باؤ سے بات کرتے ہوئے کوفی عنان نے کہا کہ وہ یہ کام خود سے نہیں کر سکتے اور انہیں چین کی حمایت اور مشاورت درکار ہے۔

وزیرِاعظم وین جیا باؤ نے کوفی عنان سے مخاطب ہو کر کہا کہ صورتِ حال ’ایک نازک موڑ پر ہے‘ اور کوفی عنان کی کوششوں سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

واضح رہے کہ روس نے کوفی عنان کے اس منصوبے کی حمایت کی ہے جس کے تحت شام میں قیامِ امن کے لیے اقوامِ متحدہ کی سربراہی میں جنگ بندی اور سیاسی بات چیت کی جائے گی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روس کی حمایت سے بیجنگ میں کوفی عنان کا کام آسان ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ روس اور چین پر تنقید کی گئی تھی جب ان دونوں ممالک نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں تشدد کی مذمت پر پیش کی جانے والی ایک قرار داد کو ویٹو کر دیا تھا۔

اس بارے میں گزشتہ ہفتے اتوار کو جب روسی صدر دیمیتری میدوی ایدف اور کوفی عنان کی ملاقات ہوئی تو روسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کے قیامِ امن کے منصوبے میں ان کے ساتھ ہیں کیونکہ یہ شام کے لیے ایک خونی خانہ جنگی سے بچنے کا آخری حربہ نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں