شامی فورسز پر بچوں کو نشانہ بنانے کا الزام

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ ناوی پلے نے کہا ہے کہ شامی حکام جانتے بوجھتے ہوئے ارادتاً بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں شام میں قید سینکڑوں بچوں کے مستقبل کے بارے میں انتہائی تشویش ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان شام کے لیے امن منصوبہ لے کر گئے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے بارے میں فیصلہ ان کے افعال کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

ناوی پلے نے بی بی سی کو بتایا کہ شامی حکمراں کو ان کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے شہریوں کے استحصال کے لیے جواب دہ ہونا ہوگا۔

’یہ ایک قانونی صورتحال ہے۔ کئی واقعات میں اس بات کے کافی ثبوت موجود ہیں کہ سیکورٹی فورسز نے کئی اقدمات کے لیے اعلی سطح سے منظوری حاصل کی یا ان میں اعلی حکام کی مداخلت شامل تھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صدر الاسد سادہ الفاظ میں قتلِ و غارت روکنے کے احکامات جاری کرتے تو یہ قتل و غارت رک جاتا۔‘

ناوی پلے نے شام میں بدامنی کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بچوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو ناقابلِ بیان قرار دیا۔

’بچوں کو گھٹنوں پر گولیاں ماریں گئیں۔ انہیں بڑے لوگوں کے ساتھ غیر انسانی حالات میں رکھا گیا۔ ان کے زخموں کا علاج نہیں کروایا گیا۔ حتٰی کہ انہیں یرغمال بنایا گیا اور انہیں معلومات کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا گیا۔‘

ناوے پلے کا کہنا تھا کہ ’بشارالاسد جیسے لوگوں کا وقت طویل تو ہو سکتا ہے لیکن انہیں ایک نہ ایک دن انصاف کا سامنا کرنا ہوگا۔‘

منگل کے روز دیر گئے شام کے کئی منحرف گروپوں نے سیرئین نیشنل کونسل کی شام کے عوام کی ترجمان کے طور پر تنظیمِ نو پر اتفاق کیا۔ یہ فیصلہ استنبول میں حزبِ اختلاف کی تحریک کو متحد کرنے کے مقصد سے ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کوئی بھی گروہ ایسا نہیں تھا جو یہ سمجھتا ہو کہ صدر اسد ملک کے لیے ذرّہ بھر بھی مخلص ہیں۔ صدر اسد کے مخالفین انہیں اقتدار میں رکھنے کے کسی بھی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں